LIVE
Loading Breaking News...

ٹیڈ پوسٹول اور امریکی میزائل دفاع: ایک سائنسی جدوجہد

News Image
ایم آئی ٹی کے معروف طبیعیات دان ٹیڈ پوسٹول تین دہائیوں سے زائد عرصے سے امریکی میزائل دفاعی نظام کی کارکردگی پر تنقیدی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی طویل جدوجہد دفاعی اسٹیبلشمنٹ کے اندر موجود سائنسی اور تکنیکی سوالات کے تضادات کو اجاگر کرتی ہے۔
گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اپنے کیریئر میں، ایم آئی ٹی (MIT) کے معروف ماہر طبیعیات ٹیڈ پوسٹول نے امریکی میزائل دفاعی نظام کی کارکردگی کے حوالے سے سرکاری دعووں کو مسلسل چیلنج کیا ہے۔ پوسٹول کا کام محض تکنیکی تنقید تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک ایسی جدوجہد بن چکا ہے جس نے دفاعی اسٹیبلشمنٹ کے خفیہ اور غیر شفاف طریقہ کار کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے۔ ان کی تحقیق نے بارہا ان تکنیکی کوتاہیوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں حکومتی سطح پر نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ ٹیڈ پوسٹول کی تنہائی اور ان کی آواز کا دارومدار ان کے سائنسی اصولوں پر مبنی ہے، جو اکثر طاقتور دفاعی لابی کے مفادات سے متصادم ہوتے ہیں۔ اگرچہ دفاعی حلقوں میں تکنیکی بحثوں کی کمی نہیں ہے، تاہم پوسٹول کا طریقہ کار اس لحاظ سے منفرد ہے کہ وہ عوامی سطح پر جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ جب میزائل دفاع جیسے اہم قومی سلامتی کے منصوبوں پر اربوں ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں، تو ان کی افادیت کے بارے میں سچائی چھپانا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ ملکی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے۔ ماہرین کے مطابق پوسٹول کی تنہائی کا ایک گہرا پہلو یہ ہے کہ جدید دور میں دفاعی اسٹیبلشمنٹ تکنیکی تنقید کو تو برداشت کر لیتی ہے مگر اسے پالیسی سازی کا حصہ بنانے سے گریزاں رہتی ہے۔ پوسٹول جیسے ماہرین کی آوازیں اکثر سرکاری فائلوں میں دب کر رہ جاتی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ میزائل دفاع کے نام پر کیے جانے والے دعوے اکثر زمینی حقائق کے برعکس ہوتے ہیں، جس سے نہ صرف وسائل کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان ہتھیاروں کی دوڑ میں بھی غیر ضروری تیزی آتی ہے۔ آخر میں، ٹیڈ پوسٹول کی یہ طویل جدوجہد اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سائنسی صداقت اور قومی مفاد کے درمیان توازن برقرار رکھنا کتنا مشکل کام ہے۔ ان کی آواز، اگرچہ اکثر تنہا رہی ہے، لیکن تاریخ اسے ایک ایسے ماہر کی حیثیت سے دیکھے گی جس نے سیاسی دباؤ کے باوجود حقائق کا دامن نہیں چھوڑا۔ ان کا کردار یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا دفاعی پالیسیوں کو واقعی سائنسی جانچ پڑتال کے بعد تشکیل دیا جاتا ہے یا یہ محض سیاسی اور کاروباری مفادات کے گرد گھومتی ہیں۔