LIVE
Loading Breaking News...

مشرقی ایشیا میں پیتل کی پیداوار کے قدیم ترین آثار دریافت

News Image
چینی محققین نے قدیم کروسیبلز (دھات پگھلانے والے برتنوں) کا مطالعہ کرتے ہوئے مشرقی ایشیا میں پیتل کی تیاری کے قدیم ترین شواہد دریافت کیے ہیں۔ یہ دریافت قدیم دھات کاری کی تکنیکوں اور انسانی تاریخ کے ارتقاء کو سمجھنے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔
چین کے شہر گوانگ ژو میں کام کرنے والے محققین کی ایک ٹیم نے آثار قدیمہ کے حوالے سے ایک انتہائی اہم دریافت کی ہے، جس سے مشرقی ایشیا میں دھات کاری کی تاریخ کے نئے پہلو سامنے آئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ماہرین نے قدیم کروسیبلز یعنی دھات پگھلانے والے خصوصی برتنوں کا گہرائی سے تجزیہ کیا ہے جن میں پیتل کی تیاری کے سب سے قدیم شواہد موجود ہیں۔ یہ دریافت اس خطے میں صنعتی اور تکنیکی ترقی کے ارتقائی عمل کو سمجھنے کے لیے ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پیتل ایک ایسی دھات ہے جو تانبے اور جست کے ملاپ سے بنتی ہے، اور اس کی تیاری کی مہارت قدیم دور میں ایک پیچیدہ عمل تصور کی جاتی تھی۔ اب تک ہونے والی تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان قدیم برتنوں میں استعمال ہونے والے کیمیائی مادوں اور باقیات کا تعلق اس دور سے ہے جب انسانی تہذیبیں دھات کاری میں اپنی مہارتوں کو مستحکم کر رہی تھیں۔ یہ شواہد نہ صرف اس دور کے دستکاروں کی تکنیکی مہارت کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس وقت کی معیشت میں دھاتوں کا تبادلہ اور ان کی تیاری کس قدر اہمیت کی حامل تھی۔ آثار قدیمہ کی میگزین میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق، یہ تحقیق اس بات کا تعین کرنے میں مددگار ثابت ہوگی کہ پیتل سازی کا یہ عمل کن مراحل سے گزر کر مشرقی ایشیا کے دیگر حصوں تک پہنچا۔ ماہرین اب ان کروسیبلز کی باقیات کا مزید لیبارٹری تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس وقت کون سے ایندھن اور بھٹیوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ دریافت قدیم چینی سماج کی تکنیکی ترقی کے بارے میں پائی جانے والی بہت سی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی تاریخ میں ایشیائی کردار کو مزید واضح کرتی ہے۔ محققین کے مطابق یہ دریافت آنے والے وقت میں آثار قدیمہ کے شعبے میں تحقیق کے نئے دروازے کھولے گی، کیونکہ پیتل کی تیاری کے شواہد اب بھی زیرِ زمین دفن کئی مقامات پر موجود ہو سکتے ہیں۔ اس کامیاب پیش رفت کے بعد اب ماہرین آثار قدیمہ اس بات پر بھی غور کر رہے ہیں کہ کیا اس تکنیک کا تعلق کسی خاص ثقافتی گروہ سے تھا یا یہ پوری خطے میں مشترکہ طور پر رائج تھی۔ یہ سائنسی مطالعہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں کے ایک روشن باب کو دنیا کے سامنے لانے میں کامیاب رہا ہے۔