Business
امریکی بانڈ ییلڈز میں اضافہ اور معاشی بحران کا خدشہ
عالمی سطح پر بانڈز کی فروخت میں تیزی کے باعث امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار 2007 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس صورتحال نے امریکی حکومت کے لیے قرض لینے کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے جس سے معاشی خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں بانڈز کی زبردست فروخت کے نتیجے میں امریکی حکومت کے لیے مشکلات کا دائرہ کار وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 30 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی پیداوار (yield) 2007 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی شرح سود بھی 19 ماہ کی بلند ترین سطح تک جا پہنچی ہے۔ بانڈز کی قیمتوں میں گراوٹ اور پیداوار میں اضافے نے براہ راست امریکی حکومتی قرضوں کے اخراجات کو مہنگا کر دیا ہے، جس سے واشنگٹن کے جاری مالیاتی منصوبوں پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ بانڈ مارکیٹ میں جاری یہ ہلچل صرف حکومتی قرضوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کا اثر عام صارفین اور کارپوریٹ سیکٹر پر بھی پڑے گا۔ جب امریکی حکومت کے قرض لینے کی لاگت بڑھتی ہے، تو اس کا اثر ہوم لونز، آٹو فنانسنگ، اور کریڈٹ کارڈ کی شرح سود پر بھی پڑتا ہے، جس سے معاشی سرگرمیوں میں سست روی کا اندیشہ ہے۔ ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کے حصص پر بھی اس صورتحال کا دباؤ ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی شرح سود اسٹاک مارکیٹ کی ویلیو ایشن کے لیے سازگار نہیں سمجھی جاتی۔
بگ ٹیک کمپنیوں کا کردار اس پوری صورتحال میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ کمپنیاں اکثر سرمائے کی فراہمی کے لیے مارکیٹ پر انحصار کرتی ہیں اور جب بانڈ ییلڈز میں اضافہ ہوتا ہے تو ان کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع اور قرض کی حصولیابی مہنگی ہو جاتی ہے۔ سرمایہ کار اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا امریکی فیڈرل ریزرو اپنی موجودہ مانیٹری پالیسی کو برقرار رکھے گا یا بڑھتی ہوئی شرح سود کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے مداخلت کرے گا۔
مستقبل قریب میں اس صورتحال کا اثر عالمی معاشی استحکام پر بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی بانڈز کو عالمی مالیاتی نظام میں 'سیف ہیون' سمجھا جاتا ہے۔ اگر ان کی پیداوار اسی طرح بڑھتی رہی تو عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے اور دیگر ممالک کی کرنسیوں پر بھی دباؤ بڑھے گا۔ حکومت کے لیے اپنے بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ کو سنبھالنا آنے والے دنوں میں ایک بڑا چیلنج ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب افراطِ زر (inflation) پر قابو پانا پہلے ہی ایک کٹھن مرحلہ بنا ہوا ہے۔