World
موساد اور شام کے وزراء کی ملاقات، ترکی کی فوجی تعیناتی پر گہرے تحفظات
موساد کے ڈائریکٹر اور شامی وزیر خارجہ کے درمیان ترکی کی فوجی تعیناتی کے حوالے سے خفیہ ملاقات اور بات چیت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس معاملے کے بعد اسرائیل کی جانب سے شامی فضائی اڈے پر کیے گئے حملوں نے خطے میں نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔
ایک اہم اور خصوصی انکشاف میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے ڈائریکٹر اور شامی وزیر خارجہ کے درمیان حال ہی میں ایک خفیہ ملاقات ہوئی ہے، جس کا مرکزی موضوع خطے میں ترکی کی فوجی نقل و حرکت اور ممکنہ تعیناتیاں تھیں۔ ذرائع کے مطابق یہ ملاقات اسرائیل کی جانب سے شام کے ایک اہم فضائی اڈے پر کیے گئے فضائی حملوں سے قبل عمل میں آئی تھی، جس کا مقصد ترکی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور فوجی موجودگی کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کرنا تھا۔ اس بات چیت نے مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ جغرافیائی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں مختلف طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے غیر معمولی اقدامات کر رہی ہیں۔
اسرائیلی حکام نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ کارروائی ترکی کی جانب سے شام میں اپنی افواج کو تعینات کرنے کے منصوبوں کے پیش نظر کی گئی تھی۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اسے کچھ ایسی انٹیلی جنس معلومات موصول ہوئی تھیں جن کے مطابق ترکی وہاں اپنی فوجی قوت بڑھانا چاہتا تھا، جسے تل ابیب نے اپنی سیکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ دوسری جانب، ترکی نے اسرائیل کے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے اسے 'ناقابل قبول' قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کا یہ عمل خطے کے امن کو خراب کرنے کے مترادف ہے۔ ترکی کی جانب سے اس معاملے پر شدید ردعمل ظاہر کیا گیا ہے اور اسے ایک بلاجواز جارحیت سے تعبیر کیا گیا ہے۔
اس صورتحال پر بین الاقوامی برادری نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ سمیت دیگر کئی ممالک نے اسرائیل کی جانب سے شامی فضائی اڈے پر کیے گئے حملوں کو 'غیر ضروری کشیدگی' قرار دیا ہے اور تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ پاکستان نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے شام کی خودمختاری کے خلاف قرار دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال اور مختلف طاقتوں کے مفادات کے ٹکراؤ کے باعث شام ایک بار پھر بین الاقوامی تنازعات کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ترکی، اسرائیل اور شام کے درمیان یہ سفارتی اور فوجی کشیدگی آنے والے دنوں میں کیا رخ اختیار کرتی ہے۔