LIVE
Loading Breaking News...

امریکی افراط زر: فیڈرل ریزرو کے حکام تشویش میں مبتلا

News Image
امریکی فیڈرل ریزرو کے عہدیداران نے مہنگائی کے تسلسل پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس سے شرح سود میں مزید اضافے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی نے بھی عالمی اقتصادی منظر نامے اور افراطِ زر کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
امریکہ کے مرکزی بینک، فیڈرل ریزرو کے اعلیٰ حکام نے ملک میں مہنگائی کی مسلسل بلند شرح پر اپنی بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حال ہی میں جاری ہونے والی ایف او ایم سی (FOMC) کی منٹس کے مطابق، مرکزی بینک کے متعدد شرکاء اس بات پر متفق ہیں کہ افراطِ زر کی شرح ہدف سے کہیں زیادہ ہے، جو کہ امریکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ حکام کا یہ ماننا ہے کہ اگر مہنگائی کی موجودہ لہر پر قابو نہ پایا گیا تو اس کے طویل مدتی اثرات معاشی استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس صورتحال نے مالیاتی منڈیوں میں شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات کو تقویت دی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ فیڈرل ریزرو کے حکام اپنی اگلی پالیسی میٹنگز میں سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں تاکہ قیمتوں میں اضافے کو روکا جا سکے۔ منٹس میں اس بات کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے کہ بہت سے حکام نے مہنگائی کے حوالے سے اپنی برداشت کھو دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی بینک کے اندر اب جارحانہ مانیٹری پالیسی اختیار کرنے کی حمایت بڑھ رہی ہے۔ مزید برآں، مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی صورتحال نے بھی عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے، جس سے افراطِ زر کے خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ فیڈرل ریزرو کے مطابق، مشرق وسطیٰ کے تنازعہ نے معاشی منظر نامے کو غیر یقینی بنا دیا ہے اور مہنگائی کی پیشن گوئی کرنا مشکل کر دیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 85 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے بعد، امریکی معیشت پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے کیونکہ ایندھن کی قیمتیں براہ راست صارفین کی قوت خرید اور پیداواری لاگت کو متاثر کرتی ہیں۔ فیڈرل ریزرو کے حکام کی ان تازہ ترین آراء نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں مرکزی بینک کے فیصلوں پر دنیا بھر کی نظریں جمی ہوں گی کیونکہ ان کا اثر صرف امریکی معیشت پر ہی نہیں بلکہ پوری عالمی منڈی پر پڑے گا۔ اگر شرح سود میں مزید اضافہ کیا جاتا ہے، تو اس سے قرضوں کی لاگت میں اضافہ ہوگا، جو کہ معاشی سرگرمیوں کو سست کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ فیڈرل ریزرو کس طرح اپنی پالیسیوں کے ذریعے مہنگائی پر قابو پانے اور معاشی ترقی کو برقرار رکھنے کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔