Entertainment
صادیہ امام کا انٹرویو: انڈسٹری میں خواتین کے لیے مشکلات کا انکشاف
معروف اداکارہ صادیہ امام نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دور کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس وقت شوبز انڈسٹری میں مردوں کا مکمل غلبہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ماحول میں اپنی جگہ بنانا اور پروفیشنل شناخت قائم رکھنا کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں تھا۔
پاکستان کی مقبول ترین اداکارہ اور میزبان صادیہ امام نے حال ہی میں اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس وقت میڈیا انڈسٹری میں مردوں کا ایک واضح غلبہ تھا۔ صادیہ امام کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے شوبز کی دنیا میں قدم رکھا تو انہیں کئی ایسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا جو ان دنوں عام تھے، کیونکہ پورا سیٹ اپ اور فیصلہ سازی کے تمام اختیارات زیادہ تر مردوں کے پاس ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک خاتون ہونے کے ناطے پروفیشنل میدان میں اپنی شناخت بنانا ایک صبر آزما عمل تھا جس میں انہیں مسلسل اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنا پڑتا تھا۔ صادیہ امام کے مطابق، اس وقت ورکنگ انوائرمنٹ آج کے مقابلے میں بالکل مختلف تھا، جہاں خواتین کو کام کرنے کے دوران اپنے حقوق اور وقار کے لیے زیادہ محنت کرنی پڑتی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ اس دور میں سیٹ پر کام کرنے کا طریقہ کار کافی سخت تھا اور خواتین کے لیے انفرادی طور پر خود کو محفوظ اور مستحکم رکھنا ایک بڑی ذمہ داری ہوتی تھی۔ صادیہ امام نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنی ہمت اور کام پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے ان تمام مشکلات کا مقابلہ کیا اور آج وہ ایک ایسی مقام پر ہیں جہاں لوگ ان کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر بھی کافی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں مداح ان کی ہمت اور ثابت قدمی کو سراہ رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ صادیہ امام جیسے فنکاروں کی جدوجہد نے ہی بعد میں آنے والی نئی نسل کی خواتین کے لیے انڈسٹری کے دروازے آسان کیے ہیں۔ آج کی انڈسٹری میں خواتین نہ صرف اداکاراؤں کے طور پر بلکہ پروڈکشن، ڈائریکشن اور فیصلہ سازی کے اہم عہدوں پر بھی فائز ہیں، جس کا سہرا ان سینئر اداکاراؤں کی پرانی جدوجہد کو جاتا ہے جنہوں نے انتہائی مشکل حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری اور شوبز میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔