LIVE
Loading Breaking News...

اے ڈی ایچ ڈی دستاویزی فلم تنازعہ: چینل 4 کے خلاف شکایت درج

News Image
برطانیہ کی ایک فلاحی تنظیم نے چینل 4 کی دستاویزی فلم 'دی گریٹ اے ڈی ایچ ڈی مائتھ؟' کے مندرجات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ریگولیٹر آفکام سے رجوع کیا ہے۔ تنظیم کا ماننا ہے کہ اس پروگرام میں ذہنی صحت کے اس اہم مسئلے کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
برطانیہ میں اے ڈی ایچ ڈی (ADHD) کے مسائل پر کام کرنے والی معروف چیریٹی تنظیم 'اے ڈی ایچ ڈی یو کے' (ADHD UK) نے میڈیا ریگولیٹر 'آفکام' (Ofcom) میں چینل 4 کی ایک دستاویزی فلم کے خلاف باضابطہ شکایت درج کروا دی ہے۔ یہ دستاویزی فلم جس کا عنوان 'دی گریٹ اے ڈی ایچ ڈی مائتھ؟' (The Great ADHD Myth?) رکھا گیا تھا، حال ہی میں چینل 4 پر نشر کی گئی تھی جس کے بعد سے سوشل میڈیا اور ماہرین صحت کے حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ چیریٹی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس پروگرام میں پیش کیے گئے حقائق اور رائے ذہنی صحت کے اس اہم مسئلے سے متاثرہ لاکھوں افراد کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ تنظیم کی جانب سے دائر کی گئی شکایت میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ دستاویزی فلم میں اے ڈی ایچ ڈی جیسے سنجیدہ طبی مسئلے کو ایک غیر سائنسی اور غلط انداز میں دکھایا گیا ہے، جس سے معاشرے میں اس بیماری کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ چیریٹی نے نشاندہی کی ہے کہ پروگرام میں استعمال ہونے والے مواد سے مریضوں کے لیے درکار طبی مدد کے حصول میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں اور معاشرتی سطح پر ان افراد کے ساتھ امتیاز برتنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔ تنظیم کے ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ میڈیا اداروں کو صحت جیسے حساس موضوعات پر رپورٹنگ کرتے وقت انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ غلط فہمیاں نہ پھیلیں۔ دوسری جانب، چینل 4 کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم میڈیا ماہرین کا ماننا ہے کہ آفکام کی جانب سے اس شکایت کا جائزہ لینا ایک لازمی عمل ہوگا۔ اگر ریگولیٹر کو اس شکایت میں وزن محسوس ہوا تو چینل 4 کو اپنے نشریاتی مواد کی وضاحت دینی پڑ سکتی ہے یا آئندہ کے لیے سخت ہدایات جاری کی جا سکتی ہیں۔ اے ڈی ایچ ڈی یو کے تنظیم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کا مقصد اے ڈی ایچ ڈی کے مریضوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی گزار سکیں اور انہیں مناسب طبی سہولیات تک رسائی حاصل رہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب برطانیہ میں ذہنی صحت کے مسائل کے لیے تشخیص اور علاج کے طویل انتظار کے اوقات پر عوامی سطح پر پہلے ہی کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اس دستاویزی فلم کے بعد اب ماہرین نفسیات اور مریضوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ میڈیا کو ایسے مواد سے گریز کرنا چاہیے جو سائنسی بنیادوں کو چیلنج کرنے کے بجائے صحت عامہ کے مسائل میں اضافہ کرے۔ آنے والے دنوں میں آفکام کا فیصلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ نشریاتی ادارہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں کس حد تک کامیاب رہا۔