World
جرمنی: 30 سال پرانا قتل کیس، قاتل گرفتار
جرمنی میں تین دہائی قبل لاپتہ ہونے والی امریکی سیاح ایمی لوپیز کے قتل کا معمہ آخر کار حل ہو گیا ہے۔ اکیاسی سالہ ملزم نے 1994 میں پیش آنے والے اس لرزہ خیز واقعے میں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔
جرمنی میں تین دہائیوں سے جاری ایک پراسرار کولڈ کیس بالآخر اپنے منطقی انجام تک پہنچ گیا ہے۔ حکام کے مطابق 1994 میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے میں ایک 81 سالہ شخص نے امریکی سیاح ایمی لوپیز کے قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔ ایمی لوپیز کا تعلق ریاست ٹیکساس سے تھا اور وہ ستمبر 1994 میں جرمنی کے شہر کوبلنز کے دورے پر آئی تھیں۔ اس وقت کی اطلاعات کے مطابق انہیں آخری بار ایک قلعے کے قریب دیکھا گیا تھا جس کے بعد وہ اچانک لاپتہ ہو گئیں۔ ان کی گمشدگی نے نہ صرف ان کے خاندان کو شدید صدمے سے دوچار کیا بلکہ جرمن پولیس کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن گئی تھی۔
طویل عرصے تک اس کیس میں کوئی ٹھوس سراغ نہ مل سکا اور یہ کیس پولیس کے ان نون فائلز میں شامل ہو گیا جن پر برسوں تک خاموشی رہی۔ تاہم جدید فرانزک ٹیکنالوجی اور تحقیقاتی طریقہ کار میں بہتری کے بعد پولیس کو دوبارہ اس کیس کو کھولنے کا موقع ملا۔ تفتیشی حکام نے پرانی شہادتوں کا نئے سرے سے جائزہ لیا اور مشتبہ افراد کے گرد گھیرا تنگ کیا، جس کے نتیجے میں اکیاسی سالہ ملزم تک رسائی ممکن ہوئی۔ ابتدائی تفتیش اور پوچھ گچھ کے دوران ملزم نے بالآخر یہ تسلیم کر لیا کہ وہ 1994 میں اس قتل میں براہِ راست ملوث تھا۔
اس پیش رفت کے بعد مقتولہ کے لواحقین کو ایک طویل انتظار کے بعد انصاف کی امید پیدا ہوئی ہے۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے تاکہ اس گھناؤنے فعل کے محرکات اور دیگر پہلوؤں کو مکمل طور پر سمجھا جا سکے۔ یہ کیس اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ انصاف کے حصول میں وقت کی طوالت کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتی، اور جدید سائنسی تحقیق کی بدولت دہائیوں پرانے مجرموں کو بھی کٹہرے میں لایا جا سکتا ہے۔ واقعے کے بعد جرمنی اور امریکہ کے قانونی حلقوں میں اس پیش رفت کو سراہا جا رہا ہے، جبکہ ملزم کے خلاف مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔