LIVE
Loading Breaking News...

ایران میں غیر ملکی رابطوں پر پابندیوں کا نیا بل

News Image
ایران کی پارلیمنٹ میں ایک نئے بل پر غور کیا جا رہا ہے جس کے تحت غیر ملکیوں سے رابطے کے لیے حکومتی اجازت لازمی قرار دی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں غیر ملکی مداخلت کو روکنا اور قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
ایران کی سخت گیر پارلیمنٹ نے ملک میں غیر ملکی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے مقصد سے ایک نیا قانون تیار کیا ہے جو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ اس نئے مجوزہ بل کے تحت عام شہریوں، تعلیمی اداروں، اور دیگر مقامی تنظیموں کے لیے لازم ہو گا کہ وہ کسی بھی غیر ملکی ادارے یا فرد سے رابطے سے قبل متعلقہ سرکاری حکام سے اجازت حاصل کریں۔ قانون سازوں کا موقف ہے کہ اس اقدام سے ایران کے تعلیمی اور تحقیقی اداروں میں غیر ملکی انٹیلیجنس کے داخلے کے امکانات کو ختم کیا جا سکے گا اور قومی سلامتی کے امور کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔ اس قانون کے تحت اگر کوئی یونیورسٹی یا تحقیقی ادارہ کسی غیر ملکی میڈیا یا تنظیم سے کسی بھی قسم کی مشاورت یا معلومات کا تبادلہ کرنا چاہتا ہے، تو اسے پہلے سخت جانچ پڑتال کے عمل سے گزرنا پڑے گا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم ایران کی داخلی پالیسیوں میں سختی لانے کی ایک اور کڑی ہے، جس کا مقصد بیرونی طاقتوں کے ممکنہ اثر و رسوخ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ اس بل کے تحت میڈیا اداروں پر بھی قدغنیں لگانے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے بعد غیر ملکی صحافیوں یا میڈیا ہاؤسز سے براہ راست بات چیت کے لیے بھی خصوصی حکومتی اجازت نامے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ ناقدین کو خدشہ ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے ملک میں تعلیمی آزادی اور بین الاقوامی تعاون کے دروازے بند ہو سکتے ہیں، جبکہ دوسری جانب قدامت پسند حلقے اسے اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔ ایران کی موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر اس قانون کی منظوری سے بین الاقوامی برادری کے ساتھ ایران کے تعلیمی اور علمی روابط پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ فی الحال یہ بل پارلیمانی کمیٹیوں میں زیر غور ہے اور اس کے حتمی مسودے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ اس کا اطلاق کن شعبوں پر کتنی شدت سے ہوگا۔