LIVE
Loading Breaking News...

کینیڈا کی لبنان کے لیے امداد اور اسرائیل کے خلاف سخت موقف

News Image
کینیڈا نے لبنان کے لیے 50 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ کینیڈین حکومت نے لبنان کی خودمختاری کے احترام اور فوری جنگ بندی پر زور دیا ہے۔
کینیڈا کی حکومت نے لبنان میں جاری بحرانی صورتحال کے پیش نظر 50 ملین ڈالر کی ہنگامی انسانی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کینیڈین حکام کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ امداد لبنان میں بے گھر ہونے والے شہریوں اور جنگ سے متاثرہ آبادی کو بنیادی سہولیات، خوراک، طبی امداد اور صاف پانی کی فراہمی کے لیے استعمال کی جائے گی۔ کینیڈا کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان کے مختلف علاقوں میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ کینیڈا کی جانب سے فراہم کی جانے والی یہ امداد عالمی اداروں کے تعاون سے ضرورت مندوں تک پہنچائی جائے گی۔ امداد کے اعلان کے ساتھ ہی کینیڈا نے اسرائیل کی جانب سے لبنان میں کی جانے والی فوجی کارروائیوں پر سخت تنقید کی ہے۔ کینیڈین دفتر خارجہ کے اعلیٰ حکام نے اسرائیل کے 'غیر قانونی حملے' کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری کا احترام کرنا بین الاقوامی قانون کا بنیادی تقاضا ہے۔ کینیڈا نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی فوجی پیش قدمی روکے اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی ذرائع اختیار کرے۔ کینیڈا کا ماننا ہے کہ فوجی طاقت کا استعمال خطے میں استحکام لانے کے بجائے مزید تباہی کا باعث بن رہا ہے، جس سے عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ کینیڈین حکومت نے مزید کہا ہے کہ وہ لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ کینیڈا کا موقف ہے کہ تمام فریقین کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل پیرا ہونا چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔ کینیڈا اس بحران کے سیاسی حل پر زور دیتے ہوئے عالمی برادری سے بھی اپیل کر رہا ہے کہ وہ لبنان کی مدد کے لیے آگے آئیں تاکہ انسانی المیے کو ٹالا جا سکے۔ کینیڈا کی جانب سے یہ امداد اور سخت بیان مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال میں اس کے دیرینہ خارجہ پالیسی کے موقف کو ظاہر کرتا ہے جس میں عام شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔