Pakistan
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان
وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں معمولی اضافے کا اعلان کیا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی کر دی گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق جمعرات 20 اگست سے ہو چکا ہے۔
وفاقی حکومت نے بدھ کے روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 2.97 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں 32.63 روپے فی لیٹر کی بڑی کمی کی گئی ہے۔ اس ردوبدل کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 337.51 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل اب 363.06 روپے فی لیٹر کی قیمت پر دستیاب ہوگا۔ نئی قیمتوں کا اطلاق جمعرات 20 اگست سے شروع ہو گیا ہے۔ اس وقت حکومت پیٹرول پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں یہ کمی ایک طویل عرصے بعد دیکھی گئی ہے، کیونکہ اپریل کے اوائل میں اس کی قیمت 520 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی تھی۔ عالمی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی میں تعطل کے خدشات کے پیش نظر حکومت پہلے ہی ایندھن کی بچت کے اقدامات کر رہی ہے۔ پیٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک نے واضح کیا ہے کہ عالمی منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال کے باعث ایندھن کی قیمتوں کا تعین اب روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں تاکہ وہ عالمی منڈی کے رجحانات کے مطابق قیمتوں میں ردوبدل کر سکے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تبدیلیوں کا براہِ راست اثر عام آدمی پر پڑتا ہے۔ پیٹرول بنیادی طور پر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے، جس سے متوسط طبقے کا بجٹ متاثر ہوتا ہے۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کا استعمال ہیوی ٹرانسپورٹ، بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس اور بڑے جنریٹرز میں ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹ اور صنعتوں کی لاگت میں اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ایندھن کی قیمتوں کا تعین شفاف طریقے سے کیا جا رہا ہے تاکہ عالمی مارکیٹ کے دباؤ کو مقامی مارکیٹ میں متوازن رکھا جا سکے۔ وفاقی کابینہ اور وزیراعظم نے مہنگائی کے شکار عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی کے اقدامات بھی شروع کر رکھے ہیں تاکہ ایندھن کی قیمتوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔