World
امریکہ کی نئی امیگریشن پالیسی اور اسٹوڈنٹ ویزا قوانین میں تبدیلی
ٹرمپ انتظامیہ نے گرین کارڈ کے حصول اور غیر ملکی طلباء و صحافیوں کے لیے امیگریشن قوانین میں مزید سخت تبدیلیاں متعارف کروا دی ہیں۔ ان تبدیلیوں کے تحت اب درخواست گزاروں کی جانچ پڑتال کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے اور سرکاری امداد پر انحصار کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
امریکی انتظامیہ نے امیگریشن پالیسیوں میں ایک اور اہم تبدیلی کرتے ہوئے گرین کارڈ کے درخواست گزاروں، غیر ملکی طلباء اور میڈیا نمائندگان کے لیے ضوابط مزید سخت کر دیے ہیں۔ امریکی محکمہ شہریت و امیگریشن سروسز (USCIS) نے اعلان کیا ہے کہ مستقل رہائش کے خواہشمند افراد کے لیے 'فارم I-485' کو تبدیل کر دیا گیا ہے، جس کا اطلاق 18 ستمبر سے لازمی ہوگا۔ اس نئی پالیسی کے تحت امیگریشن افسران کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ان درخواست گزاروں کی سخت جانچ پڑتال کریں جو مستقبل میں حکومتی امداد پر انحصار کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تارکین وطن مالی طور پر خود کفیل ہوں اور امریکی ٹیکس دہندگان کے فنڈز پر بوجھ نہ بنیں۔
اس کے علاوہ غیر ملکی طلباء، ایکسچینج وزیٹرز اور میڈیا نمائندگان کے لیے بھی قواعد و ضوابط میں بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔ طویل عرصے سے رائج 'دورانیہ حیثیت' (Duration of Status) کا نظام ختم کر کے اب داخلے کے لیے مقررہ مدت کا تعین کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طلباء اور صحافی اب غیر معینہ مدت تک قیام نہیں کر سکیں گے، بلکہ انہیں اپنی قیام کی مدت بڑھانے کے لیے باقاعدہ نئے طریقہ کار سے گزرنا ہوگا۔ یہ تبدیلیاں 15 ستمبر سے لاگو ہوں گی جس کا مقصد امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی (DHS) کی جانب سے ان افراد کی نگرانی کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔
انتظامیہ نے امیگریشن افسران کو درخواستوں کی جانچ میں مزید صوابدیدی اختیارات بھی دے دیے ہیں۔ اب افسران کسی بھی ایسی درخواست کو بغیر کسی اضافی نوٹس (RFE) یا انتباہ کے مسترد کر سکتے ہیں جس میں مطلوبہ ثبوت یا دستاویزات موجود نہ ہوں۔ یہ پالیسی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ درخواست گزار اپنی درخواست کے پہلے مرحلے پر ہی مکمل اور درست معلومات فراہم کریں۔ اگرچہ یہ اقدامات قانونی امیگریشن کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں، لیکن امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ تبدیلیاں سسٹم میں شفافیت لانے اور امیگریشن کے عمل کو مزید منظم بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ ان تبدیلیوں سے ان تارکین وطن پر سب سے زیادہ اثر پڑے گا جو پہلے سے امریکہ میں مقیم ہیں اور اپنی قانونی حیثیت کو مستقل رہائش میں تبدیل کروانا چاہتے ہیں۔