LIVE
Loading Breaking News...

کشمیر پر امریکی بیان، پاکستان کا سخت ردعمل اور امریکی ناظم الامور کی طلبی

News Image
پاکستان نے امریکی سفارت کار کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر دیے گئے غیر ضروری بیانات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ دفتر خارجہ نے امریکی ناظم الامور کو طلب کر کے اس معاملے پر باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے امریکی سفارت کار کے حالیہ متنازع بیانات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر لیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے اعلیٰ عہدیدار کو بلا کر اس بات پر واضح کیا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کے غیر ذمہ دارانہ بیانات خطے کے امن اور دو طرفہ سفارتی تعلقات پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی تیسرے فریق کی طرف سے یکطرفہ یا جانبدارانہ رائے کا اظہار ناقابل قبول ہے۔ دفتر خارجہ کے حکام نے امریکی سفارت کار کو باور کرایا کہ پاکستان کشمیر کے عوام کی حق خود ارادیت کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا اور ایسے بیانات حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش ہیں۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ طلبی ایک اہم پیش رفت ہے جس کا مقصد امریکہ پر یہ واضح کرنا ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اس موقع پر امریکی ناظم الامور کے سامنے پاکستانی موقف کو تفصیل سے پیش کیا گیا اور ان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ واشنگٹن کو اسلام آباد کے خدشات سے آگاہ کریں۔ پاکستان کی حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ عالمی برادری کے سامنے کشمیر کا مقدمہ ہر فورم پر پوری قوت کے ساتھ اٹھاتی رہے گی۔ واضح رہے کہ حال ہی میں امریکی حکام کی جانب سے کشمیر سے متعلق کچھ ایسے ریمارکس سامنے آئے تھے جنہیں پاکستان نے اپنی خودمختاری اور خطے کی حساس صورتحال کے منافی قرار دیا ہے۔ یہ اقدام اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان اب اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے سفارتی سطح پر انتہائی سخت مؤقف اختیار کرنے کے لیے تیار ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اس سفارتی احتجاج کے بعد اپنے بیانات میں کس حد تک احتیاط برتتا ہے اور کیا اس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کم ہوتی ہے یا نہیں۔