World
جاپان زلزلہ: ہلاکتیں 30 ہو گئیں اور شدید گرمی کا عذاب
جاپان میں حالیہ تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر تیس ہو گئی ہے۔ ہزاروں بے گھر افراد امدادی کیمپوں میں شدید گرمی اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ٹوکیو: جاپان میں حال ہی میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد صورتحال تاحال کشیدہ بنی ہوئی ہے اور قدرتی آفت کے اس سانحے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر تیس تک پہنچ چکی ہے۔ حکام کے مطابق زلزلے کے جھٹکوں سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں تاکہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالا جا سکے اور متاثرین تک بروقت طبی امداد پہنچائی جا سکے۔ اس تباہی نے پورے ملک میں سوگ کی فضا پیدا کر دی ہے جبکہ حکومتی ادارے متاثرہ علاقوں میں امن و امان اور بحالی کے کاموں میں دن رات مصروف ہیں۔
دوسری جانب زلزلے کے نتیجے میں اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونے والے ہزاروں افراد اس وقت عارضی پناہ گاہوں اور انخلا کے مراکز میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ان ریلیف کیمپوں میں موجود مکینوں کو نہ صرف اپنے پیاروں کو کھونے کا صدمہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے بلکہ انہیں شدید موسم اور تپتی ہوئی گرمی کا بھی سامنا ہے۔ درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے عارضی خیموں اور مراکز میں مقیم شہریوں بالخصوص بزرگوں اور بچوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے، جہاں گرمی سے بچنے کے لیے انتظامات ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔
حکومتی ترجمان اور مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر فین، ایئر کولرز اور پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ اس طُوفانی گرمی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ تاہم، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے امدادی سامان کی ترسیل میں شدید رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مستقل رہائش اور بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے تاکہ اس کڑے وقت میں ان کی مشکلات میں کچھ کمی لائی جا سکے۔ بین الاقوامی برادری نے بھی جاپان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے اور ہر ممکن مدد کی پیشکش کی ہے۔