Business
سٹی بینک کی جانب سے نئی کسٹڈی سروسز کا آغاز
بینکنگ کے عالمی ادارے سٹی بینک نے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کسٹڈی پلس نامی جدید ٹولز کا سلسلہ متعارف کرایا ہے۔ یہ اقدام تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی مالیاتی منڈی کے تقاضوں اور فوری تصفیہ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
بینکنگ کے شعبے کے عالمی جائنٹ سٹی (Citi) نے حال ہی میں 'کسٹڈی پلس' (Custody+) کے نام سے ایک جدید ٹولز کا سلسلہ متعارف کرایا ہے جس کا مقصد ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو فوری یا قریب ترین وقت میں تصفیہ (real-time settlement) کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ بینک کی جانب سے منگل 18 اگست کو جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، یہ نیا اقدام عالمی مالیاتی منڈیوں میں پیدا ہونے والے نئے چیلنجز اور تیزی سے بدلتے ہوئے ٹیکنالوجی کے دور میں سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
اس نئے سروس پیکج کو خاص طور پر ان سرمایہ کاروں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو مسلسل چلنے والی عالمی منڈیوں اور تیزی سے سکڑتے ہوئے تصفیہ کے چکروں (settlement cycles) کے درمیان کام کر رہے ہیں۔ موجودہ دور میں جہاں مالیاتی لین دین کا حجم بڑھتا جا رہا ہے، وہاں روایتی تصفیہ کے طریقے اب سست محسوس ہونے لگے ہیں۔ سٹی بینک کا کسٹڈی پلس پلیٹ فارم اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے لین دین کی رفتار کو بڑھائے گا اور خطرات کو کم کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔
بینک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو اب اپنی رقوم اور اثاثوں کی نقل و حرکت میں پہلے سے کہیں زیادہ شفافیت اور رفتار درکار ہے۔ سٹی بینک کے اس جدید سسٹم کے ذریعے کلائنٹس اپنے اثاثوں کا بہتر انتظام کر سکیں گے، جس سے ان کی آپریشنل کارکردگی میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ یہ قدم بینک کی ڈیجیٹل تبدیلی کی حکمت عملی کا بھی حصہ ہے جس کا مقصد عالمی مالیاتی نظام میں اپنی برتری کو برقرار رکھنا ہے۔
مالیاتی ماہرین کا ماننا ہے کہ سٹی بینک کی جانب سے متعارف کرایا گیا یہ حل دیگر بینکاری اداروں کے لیے بھی ایک مثال بنے گا کیونکہ مستقبل میں حقیقی وقت میں ادائیگیوں (real-time payments) کی مانگ میں اضافہ ناگزیر ہے۔ یہ ٹول نہ صرف سرمایہ کاروں کو درپیش تکنیکی مشکلات کو دور کرے گا بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں اعتماد کو بھی فروغ دے گا۔ آنے والے دنوں میں اس سروس کے ذریعے سٹی بینک کی کلائنٹ بیس میں مزید وسعت متوقع ہے کیونکہ سرمایہ کار اب ایسے پلیٹ فارمز کو ترجیح دے رہے ہیں جو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوں۔