LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ فیملی کرپٹو پروجیکٹ اور چینی اے آئی ٹیکنالوجی کا تنازع

News Image
ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان کی جانب سے شروع کی گئی ورلڈ کلا کارپٹ پلیٹ فارم پر چینی ساختہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس ماڈلز کے انکشاف نے تشویش پیدا کر دی ہے۔ امریکی حکام نے ان ماڈلز کو قومی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار دیتے ہوئے تحقیقات شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان کی جانب سے متعارف کروائی گئی نئی کرپٹو کرنسی فرم 'ورلڈ کلا' (World Liberty Financial) ایک نئے تنازع کی زد میں آ گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس پلیٹ فارم پر موجود آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے 90 میں سے 43 ماڈلز کا تعلق براہ راست چینی کمپنیوں سے ہے، جنہیں امریکی حکومت پہلے ہی قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دے چکی ہے۔ اس انکشاف نے واشنگٹن کے سیاسی اور ٹیکنالوجی کے حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا ایک امریکی کمپنی کس طرح ایسی غیر ملکی ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے جس پر امریکی حکام نے پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ورلڈ کلا پلیٹ فارم پر علی بابا، بیدو، زی اے آئی، ڈیپ سیک اور مون شاٹ جیسی چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے تیار کردہ اے آئی ماڈلز استعمال کیے جا رہے ہیں۔ یہ کمپنیاں چین کے اہم ٹیکنالوجی نیٹ ورک کا حصہ ہیں اور امریکہ میں اکثر ان پر ڈیٹا چوری اور انٹیلیجنس معلومات کے تبادلے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کرپٹو پروجیکٹ میں ان چینی ماڈلز کا استعمال صارفین کے ڈیٹا کی حفاظت اور امریکی مالیاتی نظام کی سیکیورٹی کے حوالے سے کئی سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چینی ساختہ اے آئی ماڈلز کا استعمال امریکی شہریوں کے ڈیٹا کو براہ راست چینی سرورز تک رسائی دے سکتا ہے، جو کہ قومی سلامتی کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے اس منصوبے کو ایک انقلابی قدم قرار دیا گیا تھا، تاہم اب اس میں چینی ٹیکنالوجی کی شمولیت نے اسے تنقید کے نشانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ناقدین کا مطالبہ ہے کہ اس پروجیکٹ کی شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے فوری طور پر حکومتی سطح پر تحقیقات ہونی چاہییں۔ دوسری جانب، ورلڈ کلا انتظامیہ نے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کے میدان میں سخت مسابقت جاری ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کی ٹیکنالوجی کو قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا امریکی انتظامیہ اس کرپٹو فرم کے خلاف کوئی کارروائی کرتی ہے یا یہ معاملہ محض سیاسی بیان بازی تک محدود رہے گا۔