Politics
ڈاکٹر فوزی کو کانگریس میں توہینِ عدالت کی ووٹنگ کا سامنا
سینیٹر رینڈ پال نے انکشاف کیا ہے کہ ڈاکٹر انتھونی فوزی کو کانگریس میں کورونا وائرس سے متعلق سوالات کے جوابات نہ دینے پر توہینِ عدالت کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس معاملے پر قانونی کارروائی اور مقدمے کے امکانات بھی موجود ہیں۔
امریکہ کے معروف طبی ماہر اور سابق صدارتی مشیر ڈاکٹر انتھونی فوزی کو ایک بار پھر قانون سازوں کی جانب سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کانگریس میں کورونا وائرس سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے مبینہ طور پر جواب دینے سے گریز کرنے پر ان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی اور ووٹنگ کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس پیش رفت نے واشنگٹن کے سیاسی اور طبی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے سینیٹر رینڈ پال نے اس حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کے کافی روشن امکانات موجود ہیں کہ ڈاکٹر فوزی کو ان کے طرزِ عمل کی وجہ سے باقاعدہ قانونی چارہ جوئی اور مقدمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سینیٹر رینڈ پال کا یہ بیان اس کشیدگی کو مزید بڑھا رہا ہے جو وبائی امراض کے دوران حکومتی پالیسیوں اور فیصلوں پر طویل عرصے سے چلی آ رہی ہے۔ دوسری جانب، ڈاکٹر فوزی کے حامیوں اور طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پر لگائے جانے والے الزامات سیاسی بنیادوں پر مبنی ہیں اور انہوں نے ہمیشہ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے بہترین طبی مشورے فراہم کیے۔ کوویڈ کے دوران کیے گئے اقدامات اور ان کے فیصلوں پر اب بھی بحث جاری ہے، اور کانگریس میں اس تازہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ قانون ساز اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ڈاکٹر فوزی کے اقدامات نے کانگریس کے احکامات کی توہین کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں۔ اگر توہینِ عدالت کی قرارداد منظور ہوتی ہے تو اس کے امریکی انتظامی اور سیاسی نظام پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔