World
ٹرمپ کا جنوبی کوریا پر تنقید: فوجی اخراجات اور دفاعی تنازع
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی کوریا کے ساتھ ہونے والی فوجی مشقوں پر تنقید نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سابق امریکی صدر کا موقف ہے کہ جنوبی کوریا کو امریکہ کی فوجی موجودگی کے بدلے مزید اخراجات ادا کرنے چاہئیں۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی کوریا کے حوالے سے دیے گئے حالیہ بیانات نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ تنازع خاص طور پر سالانہ امریکی-جنوبی کوریا مشترکہ فوجی مشقوں 'الچی فریڈم شیلڈ' کے آغاز سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا، جس نے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور مالیاتی معاہدوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ٹرمپ کا موقف رہا ہے کہ جنوبی کوریا کو امریکہ کی جانب سے فراہم کردہ سیکیورٹی چھتری کے عوض واشنگٹن کو زیادہ مالی تعاون فراہم کرنا چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ امریکہ طویل عرصے سے اپنے اتحادیوں کے دفاع کا بوجھ اکیلے اٹھا رہا ہے جو کہ امریکی معیشت کے مفاد میں نہیں ہے۔
اس تنازع کی جڑیں دراصل اس بات پر ہیں کہ واشنگٹن اور سیول کے مابین فوجی اخراجات کی تقسیم کس طرح ہونی چاہیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارت کے دوران بھی کئی بار یہ مطالبہ کیا تھا کہ جنوبی کوریا کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ امریکی فوجی موجودگی کے اخراجات میں بھی خاطر خواہ اضافہ کرنا چاہیے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جنوبی کوریا ایک امیر ملک ہے اور وہ اپنے دفاع کے لیے پوری قیمت ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طرح کے بیانات نہ صرف سفارتی حلقوں میں تشویش کا باعث بنتے ہیں بلکہ خطے میں چین اور شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے پیش نظر اتحادی ممالک کی یکجہتی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ جارحانہ لہجہ دراصل ان کی 'امریکہ فرسٹ' پالیسی کا تسلسل ہے۔ اگرچہ فوجی مشقیں خطے کے امن اور استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں، لیکن ٹرمپ کے بیانات ان مشقوں کی افادیت کو ایک مالیاتی لین دین کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ جنوبی کوریا کی جانب سے اکثر یہ دلائل دیے جاتے ہیں کہ امریکی فوج کی موجودگی نہ صرف جنوبی کوریا کے لیے بلکہ خود امریکہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے۔ تاہم، ٹرمپ کی یہ ناراضگی اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو اتحادی ممالک کے ساتھ امریکی تعلقات کی نوعیت یکسر بدل سکتی ہے، جس میں سیکیورٹی معاہدوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جائے گا۔