Technology
بائیڈو کی مالی کارکردگی میں تنزلی: آمدنی میں مسلسل پانچویں بار کمی
چائنیز سرچ انجن کمپنی بائیڈو کی آمدنی میں مسلسل پانچویں سہ ماہی میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ کمپنی کا اشتہاری کاروبار آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبے کی ترقی سے کہیں زیادہ تیزی سے سکڑ رہا ہے۔
چینی ٹیکنالوجی اور سرچ انجن کی بڑی کمپنی بائیڈو (Baidu) نے اپنی مالیاتی رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق کمپنی کی آمدنی میں مسلسل پانچویں سہ ماہی کے دوران کمی واقع ہوئی ہے۔ منگل کے روز جاری ہونے والے نتائج کے مطابق کمپنی نے دوسری سہ ماہی میں 31.3 ارب چینی یوآن (تقریباً 4.62 ارب ڈالر) کی آمدنی حاصل کی ہے۔ یہ اعداد و شمار گزشتہ برسوں کے مقابلے میں ایک نمایاں گراوٹ کی نشاندہی کرتے ہیں، جس نے سرمایہ کاروں اور مارکیٹ تجزیہ کاروں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اس مالیاتی بحران کی بنیادی وجہ کمپنی کے روایتی اشتہاری کاروبار میں مسلسل کمی ہے۔ اگرچہ بائیڈو گزشتہ چند سالوں سے اپنی توجہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبوں پر مرکوز کر رہی ہے، لیکن یہ نیا کاروبار ابھی تک اتنا منافع بخش ثابت نہیں ہو سکا ہے کہ وہ اشتہاری آمدنی میں ہونے والی کمی کو پورا کر سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اشتہاری شعبہ اے آئی کی ترقی کی رفتار سے کہیں زیادہ تیزی سے سکڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے کمپنی کو مجموعی مالیاتی دباؤ کا سامنا ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اے آئی ماڈلز کو بہتر بنانے اور نئے ٹیکنالوجیکل حل لانے پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم، موجودہ معاشی حالات اور چین کے اشتہاری بازار میں بڑھتے ہوئے مسابقتی دباؤ نے بائیڈو کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ کمپنی کے لیے سب سے بڑا چیلنج اب یہ ہے کہ وہ اپنے اشتہاری ماڈل کو کیسے جدید بنائے اور اے آئی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو کس طرح تیزی سے بڑھائے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔
آئندہ سہ ماہیوں میں بائیڈو کی حکمت عملی پر سب کی نظریں مرکوز رہیں گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر کمپنی اپنے اے آئی پروجیکٹس کو جلد از جلد کمرشل بنیادوں پر کامیابی سے ہمکنار کرنے میں ناکام رہتی ہے، تو آمدنی میں کمی کا یہ سلسلہ مزید طویل ہو سکتا ہے۔ بائیڈو اب اپنے اخراجات کو کم کرنے اور منافع بخش شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے نئے اقدامات پر غور کر رہی ہے تاکہ کمپنی کے مالی حالات میں بہتری لائی جا سکے۔