World
ایران کا خلیجی ممالک کو امریکی فوج کی مدد نہ کرنے کا سخت انتباہ
ایران نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران خلیجی ریاستوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکی فوج کی کسی بھی قسم کی مدد کرنے سے گریز کریں۔ یہ انتباہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے تہران کے ساتھ تجارتی تعلقات محدود کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران نے خلیجی ممالک کو واضح طور پر متنبہ کیا ہے کہ وہ امریکی فوج کی کسی بھی طرح کی مدد یا تعاون کرنے سے گریز کریں۔ ایرانی عسکری کمانڈرز کا کہنا ہے کہ خطے میں موجود کسی بھی ملک کی جانب سے امریکہ کو اپنے اڈے یا فوجی تنصیبات استعمال کرنے کی اجازت دینا ایران کے خلاف جارحیت کے مترادف سمجھا جائے گا، جس کا جواب تہران اپنی مرضی کے وقت اور طریقے سے دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ یہ سخت انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کی سیاسی صورتحال انتہائی غیر یقینی کیفیت میں داخل ہو چکی ہے۔
اس کشیدگی کا پس منظر متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات میں نمایاں کمی اور کچھ تجارتی سرگرمیوں کو روکنے کے اقدام سے جڑا ہے۔ امارات کے اس فیصلے کے بعد تہران اور خلیجی ریاستوں کے مابین سفارتی فاصلے بڑھ گئے ہیں، جس کے اثرات اب عسکری بیانات کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کی یہ حکمت عملی دراصل اپنی علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ امریکی حملے یا دباؤ کو خلیجی سرزمین کے استعمال سے ناکام بنایا جا سکے۔
مزید برآں، ایران نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اگر کسی ملک نے جوہری حملے یا کسی بھی بڑے فوجی تصادم میں امریکہ کا ساتھ دیا تو اسے براہِ راست نشانہ بنایا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق خلیجی ممالک کی سلامتی کا انحصار خطے کے باہمی تعاون پر ہے، نہ کہ بیرونی قوتوں کی مداخلت پر۔ تہران کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز کے ارد گرد ایران کا کنٹرول بدستور برقرار ہے اور کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کے جواب میں وہ اپنی سمندری حدود کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے۔
بین الاقوامی برادری اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر رہی ہے کیونکہ خلیج میں کسی بھی فوجی تصادم کے عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی لائن پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ خطے کے ممالک اب ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں انہیں اپنے خارجہ تعلقات میں انتہائی محتاط توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ فی الحال، سفارتی ذرائع اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جائے تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے محفوظ رکھا جا سکے۔