Business
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان
حکومت نے پیٹرولیم ریفائنریز سے کامیاب مذاکرات کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 32.63 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب پیٹرول کی قیمت میں 2.97 روپے فی لیٹر کا معمولی اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں فوری طور پر نافذ العمل ہیں۔
وفاقی حکومت نے بدھ کے روز پیٹرولیم ریفائنریز کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں 32 روپے 63 پیسے فی لیٹر کی بڑی کمی کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 97 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، نئی قیمتوں کا اطلاق جمعرات 20 اگست سے ہو چکا ہے۔ اس ردوبدل کے بعد اب پیٹرول کی نئی قیمت 337 روپے 51 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 363 روپے 06 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے پیٹرول پر 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز بدستور عائد ہیں۔
اس ضمن میں پیٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک نے اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں جاری غیر یقینی صورتحال اور ایران و امریکہ کے درمیان کشیدہ حالات کے پیشِ نظر اب ایندھن کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم اور کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ عالمی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایندھن کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی کا فیصلہ کر سکے۔ یہ اقدام عالمی منڈی میں سپلائی چین کے ممکنہ خلل اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے تاکہ ملک میں ایندھن کی فراہمی کو متوازن رکھا جا سکے۔
واضح رہے کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 3 اپریل کو اپنی بلند ترین سطح 520 روپے 35 پیسے پر پہنچ گئی تھی، جبکہ پیٹرول کی قیمت بھی اسی دوران 458 روپے 41 پیسے کے ریکارڈ تک پہنچ گئی تھی۔ پاکستان میں پیٹرول کا زیادہ تر استعمال نجی سواریوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں میں ہوتا ہے، جس سے متوسط اور نچلا متوسط طبقہ براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمتوں میں تبدیلی کا اثر بھاری ٹرانسپورٹ سیکٹر اور بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس پر پڑتا ہے۔ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل ملکی ریونیو کا اہم ذریعہ ہیں جن کی ماہانہ کھپت 7 سے 8 لاکھ ٹن کے قریب رہتی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان اقدامات کا مقصد صارفین کو عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق ریلیف فراہم کرنا ہے۔