Pakistan
پاکستان میں قیدی سیاسی رہنماؤں کا نجی ہسپتالوں میں علاج: ماضی کی تاریخ
وفاقی حکومت کی جانب سے عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کے عدالتی فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کے بعد ماضی میں سیاسی رہنماؤں کو حاصل طبی سہولیات پر بحث چھڑ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ماضی میں کئی سابق وزرائے اعظم اور اہم سیاسی شخصیات کو جیل سے نجی یا سرکاری ہسپتالوں میں طبی امداد کی اجازت دی جاتی رہی ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے اسلام آباد کے نجی ہسپتال شفاء انٹرنیشنل منتقل کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کے بعد ملک میں قیدیوں کے علاج معالجے کا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا موقف ہے کہ قیدیوں کے علاج کے لیے سرکاری ہسپتال موجود ہیں اور جیل کے اندر بھی طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، اس لیے نجی سہولت کے بجائے سرکاری ہسپتال کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ تاہم، پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ماضی میں کئی سابق وزرائے اعظم اور بااثر سیاسی شخصیات کو جیل میں قید کے دوران نجی ہسپتالوں میں علاج کی اجازت دی گئی، اور بعض اوقات انہیں بیرون ملک جانے کی بھی اجازت ملی۔
اس حوالے سے نواز شریف کا کیس سب سے نمایاں ہے، جو 2018 میں اڈیالہ جیل میں قید کے دوران دل کی تکلیف کے بعد پمز ہسپتال منتقل ہوئے اور بعد ازاں طبی بنیادوں پر ضمانت ملنے کے بعد لندن علاج کے لیے روانہ ہو گئے۔ اسی طرح سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو بھی 2014 میں ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے وہ بعد ازاں علاج کے بہانے بیرون ملک چلے گئے اور پھر کبھی واپس نہ آئے۔ یہ واقعات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ ماضی میں سیاسی قیدیوں کے علاج کے لیے نجی سہولیات کا استعمال ایک معمول رہا ہے، جس پر اب سیاسی حلقوں میں بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔
مزید برآں، پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عاصم حسین کو 2015 میں دل کی تکلیف کی شکایت پر نجی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جبکہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی اڈیالہ جیل میں قید کے دوران ہرنیا کے علاج کے لیے نجی ہسپتال شفاء انٹرنیشنل کا انتخاب کیا تھا۔ اسی طرح کے ایک اور کیس میں صوبائی وزیر شرجیل میمن کو 2018 میں ضیاء الدین ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کے کمرے کو سب جیل قرار دیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں کمرے سے ممنوعہ اشیاء برآمد ہونے پر انہیں دوبارہ جیل بھیج دیا گیا تھا۔ موجودہ حکومتی درخواست کے بعد یہ سوال پھر سے اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کیا طبی بنیادوں پر علاج کا حق ہر قیدی کے لیے یکساں ہونا چاہیے یا یہ حکمران طبقے کی سہولت تک محدود رہے گا، جس پر عدالت کا فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا۔