LIVE
Loading Breaking News...

غزہ کا صحت کا نظام تباہ، اسپتالوں میں ادویات اور ایندھن کی شدید قلت

News Image
غزه کا تباہ ہوتا ہوا صحت کا نظام ڈائلیسز کے مریضوں، اعضا سے محروم افراد اور صدمے کے شکار افراد کو ضروری دیکھ بھال کے بغیر چھوڑ رہا ہے۔ طبی عملے کو شدید قلت کا سامنا ہے اور اسپتالوں میں ادویات و ایندھن ختم ہو چکا ہے۔
غزہ کی پٹی میں جاری شدید جنگ اور انتہائی بنیادی اشیا کی قلت نے خطے کے صحت کے پورے نظام کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اسپتالوں میں ادویات، طبی آلات اور ایندھن کی عدم دستیابی کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ بین الاقوامی امدادی اداروں اور مقامی ذرائع کے مطابق یہ بحران اب اس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں ڈاکٹرز کے پاس اپنے مریضوں کو بچانے کے لیے انتہائی محدود وسائل رہ گئے ہیں۔ دوسری طرف بجلی کی مسلسل بندش اور جنریٹرز کے لیے ایندھن نہ ہونے کی وجہ سے اہم شعبے بند ہوتے جا رہے ہیں۔ اس انتہائی ابتر صورتحال میں ڈائلیسز کے مریض، جنگ میں زخمی ہونے والے افراد، اعضا سے محروم ہونے والے معذور اور بڑے صدمات سے گزرنے والے سروائیورز سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ گردوں کے عارضے میں مبتلا افراد کو ہفتہ وار بنیادوں پر ڈائلیسز کی اشد ضرورت ہوتی ہے لیکن طبی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے یہ مریض موت کے منہ میں دھکیلے جا رہے ہیں۔ اسپتالوں کے اندر ادویات کی عدم دستیابی نے ڈاکٹروں کے لیے دردناک فیصلے کرنے پر مجبور کر دیا ہے جہاں انہیں طے کرنا پڑتا ہے کہ کس مریض کو زندہ رکھنے کی کوشش کی جائے۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر غزہ کے لیے طبی امداد، ایندھن اور بنیادی سامان کی رسائی کو یقینی نہ بنایا گیا تو یہاں انسانی المیہ اپنے عروج کو پہنچ جائے گا۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے بارہا اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور محاصرے میں پھنسے اسپتالوں کے لیے فوری امدادی راہداری فراہم کریں تاکہ بے گناہ انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔