LIVE
Loading Breaking News...

سپریم کورٹ کا پیپر لیک مظاہرین کے خلاف مقدمات ختم کرنے کا امکان

News Image
سپریم کورٹ نے ملک گیر امتحانی پیپر لیک مظاہروں میں ملوث طلبا کے مستقبل کو بچانے کے لیے ان کے خلاف درج ایف آئی آر ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم عدالت نے واضح کیا ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث افراد اس رعایت کے مستحق نہیں ہوں گے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے منگل کے روز ایک اہم پیش رفت میں اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ گزشتہ ماہ ملک گیر سطح پر ہونے والے امتحانی پیپر لیک مظاہروں میں شامل طلبا کے خلاف درج مقدمات کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ عدالت عظمیٰ کا ماننا ہے کہ احتجاج کرنے والے طلبا کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے اور محض احتجاج کی پاداش میں ان کا کیریئر تباہ نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ طلبا کی تعلیمی سرگرمیوں اور ان کے مستقبل کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اقدام ضروری ہے تاکہ نوجوان نسل کے قیمتی سال ضائع نہ ہوں۔ عدالتی کارروائی کے دوران بنچ نے ریمارکس دیے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم امتحانی پیپرز لیک ہونے کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی وہ انتہائی پریشان کن تھی۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان طلبا کی فہرست مرتب کریں جن کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ عدالت نے اس حوالے سے ایک اہم شرط بھی عائد کی ہے جس کے تحت ان طلبا کو اس ریلیف میں شامل نہیں کیا جائے گا جن کا سابقہ ریکارڈ سنگین مجرمانہ سرگرمیوں سے بھرا ہوا ہے۔ ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی اور انہیں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ اقدام ان ہزاروں طلبا کے لیے ایک بڑی ریلیف ہے جنہوں نے اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکل کر آواز اٹھائی تھی۔ عدالت کا یہ موقف کہ 'مستقبل داؤ پر ہے' ظاہر کرتا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ طلبا کی تعلیمی مشکلات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے باقاعدہ حکم نامہ جاری کر دیا جائے گا جس کے بعد متعلقہ تھانوں سے ایف آئی آر ختم کرنے کا عمل شروع ہو سکے گا۔ اس فیصلے سے تعلیمی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور طلبا تنظیموں نے عدالت کے اس رویے کو سراہا ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ یہ توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت لانے کے لیے متعلقہ ادارے بھی اپنا کردار ادا کریں گے تاکہ دوبارہ ایسے واقعات پیش نہ آئیں اور طلبا کو سڑکوں پر آنے کی ضرورت نہ پڑے۔ عدالتی مداخلت کے بعد اب امید ہے کہ طلبا اپنے تعلیمی کیریئر پر دوبارہ توجہ مرکوز کر سکیں گے اور تعلیمی اداروں میں معمول کی سرگرمیاں بحال ہو سکیں گی۔