Sports
این ایف ایل کھلاڑیوں کی فٹنس اور طویل کیریئر کا راز
امریکن فٹ بال لیگ کے کھلاڑیوں کی عمر بڑھنے کے ساتھ ان کی کارکردگی کو برقرار رکھنے کے لیے نئے تربیتی پروگرام مرتب کیے جا رہے ہیں۔ نیو انگلینڈ پیٹریاٹس نے تجربہ کار کھلاڑیوں کے لیے پریکٹس کے اوقات کم کرکے ان کی جسمانی فٹنس کو محفوظ بنانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔
امریکن فٹ بال لیگ (NFL) میں عمر رسیدہ کھلاڑیوں کے کیریئر کو طویل اور محفوظ بنانے کے لیے اب جدید طبی اور تربیتی اصولوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت نیو انگلینڈ پیٹریاٹس کے جارحانہ لائن مین مورگن موزز کی مثال سے سامنے آئی ہے۔ 34 سالہ مورگن موزز، جو اپنے 12ویں پیشہ ورانہ سیزن کا حصہ ہیں، کے لیے ٹیم نے ایک ایسا خصوصی تربیتی پروگرام تشکیل دیا جس کا بنیادی مقصد پریکٹس کے دوران جسمانی دباؤ کو کم کرنا تھا۔ یہ حکمت عملی ثابت کر رہی ہے کہ کھیل کے میدان میں زیادہ وقت گزارنے کے بجائے کھلاڑی کی صحت پر توجہ مرکوز کرنا زیادہ نتیجہ خیز ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ فٹ بال جیسے سخت جسمانی کھیل میں لائن مین کی پوزیشن سب سے زیادہ تھکا دینے والی ہوتی ہے۔ بار بار ہونے والے تصادم اور پریکٹس سیشنز کھلاڑیوں کے جوڑوں اور پٹھوں پر شدید اثر ڈالتے ہیں۔ پیٹریاٹس کی انتظامیہ نے موزز کے لیے 'کم پریکٹس، زیادہ دیکھ بھال' کا اصول اپنایا، جس کے تحت انہیں روایتی پریکٹس سیشنز سے مستثنیٰ رکھا گیا تاکہ میچ کے دوران ان کی توانائی اور فٹنس برقرار رہے۔ یہ طریقہ کار نہ صرف انجری کے خطرات کو کم کرتا ہے بلکہ کھلاڑی کی ذہنی اور جسمانی تازگی کو بھی بحال رکھتا ہے۔
یہ ماڈل اب دیگر NFL ٹیموں کے لیے بھی ایک مثال بن چکا ہے۔ کھیلوں کے تجزیہ کاروں کے مطابق، جدید کھیل میں اب صرف طاقت ہی کافی نہیں بلکہ کھلاڑی کی عمر اور اس کے جسمانی اعضاء کی برداشت کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اگر کھلاڑیوں کو پریکٹس کے نام پر حد سے زیادہ تھکایا نہ جائے تو وہ اپنے کیریئر کو کئی سال تک مزید بڑھا سکتے ہیں۔ مورگن موزز کا کیس یہ ثابت کرتا ہے کہ ایک منظم اور محتاط تربیتی نظام کھلاڑی کی پیشہ ورانہ زندگی کو ایک نئی جہت دے سکتا ہے، جس سے نہ صرف کھلاڑی خود بلکہ اس کی ٹیم بھی طویل عرصے تک مستفید ہو سکتی ہے۔