World
امریکہ کے ایران پر فضائی حملے، اردن کے واقعہ کا ردعمل
اردن میں ہونے والے حالیہ حملے کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے جنوبی شہروں میں شدید بمباری کی ہے۔ یہ کارروائی دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک خطرناک اضافے کی غمازی کرتی ہے۔
امریکہ نے اردن میں اپنے فوجی دستوں پر ہونے والے مہلک حملے کے ردعمل میں ایران کے خلاف جوابی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ملک کے مختلف جنوبی شہروں پر شدید اور طاقتور فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی بیانات کے مطابق، ان حملوں کا مقصد خطے میں امریکی افواج کو نشانہ بنانے والے عناصر اور ان کے پشت پناہاداروں کو سخت پیغام دینا ہے۔ اس فضائی مہم کے دوران ایران کے متعدد تزویراتی مقامات اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے خطے میں پہلے سے موجود شدید کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین اسے حالیہ برسوں میں مشرق وسطیٰ کے تنازعے کا ایک انتہائی خطرناک موڑ قرار دے رہے ہیں۔ اس سے قبل اردن کے ایک فوجی اڈے پر ہونے والے ڈرون حملے میں متعدد امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد واشنگٹن پر سخت جوابی کارروائی کے لیے شدید سیاسی اور عسکری دباؤ تھا۔ امریکی صدر اور عسکری قیادت نے تانتاں کس کر واضح کر دیا تھا کہ اس حملے کا جواب انتہائی طاقت اور عزم کے ساتھ دیا جائے گا۔ تازہ ترین حملوں کے بعد خطے کے دیگر ممالک نے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں بھی اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور سفارتی سطح پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری رابطے شروع کیے جا رہے ہیں تاکہ جنگ کے سائے مشرق وسطیٰ پر مزید گہرے نہ ہوں۔