LIVE
Loading Breaking News...

اسٹاک مارکیٹ اپڈیٹ: چپ بنانے والی کمپنیوں کے حصص میں زبردست گراوٹ

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ خاص طور پر ٹیکنالوجی اور چپ بنانے والی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔
منگل کے روز عالمی اسٹاک مارکیٹ میں ایک نمایاں گراوٹ کا مشاہدہ کیا گیا، جس میں ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج سمیت دیگر بڑے انڈیکس شدید دباؤ کا شکار رہے۔ اس گراوٹ کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی ہے، جس نے سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس تناؤ کے نتیجے میں ٹریژری ییلڈز ملٹی ایئر ہائیز یعنی کئی سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جبکہ تیل کی قیمتوں میں بھی غیر متوقع اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے مارکیٹ کے مجموعی رجحان کو متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر سیمی کنڈکٹر اور چپ بنانے والی کمپنیاں اس مندی کی سب سے زیادہ زد میں آئی ہیں۔ کریڈو ٹیکنالوجی اور مائیکرون ٹیکنالوجی جیسی بڑی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ سرمایہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی سیکٹر میں یہ گراوٹ عالمی سپلائی چین اور مستقبل کی طلب کے حوالے سے خدشات کا عکاس ہے۔ چپس کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال اور پیداواری لاگت میں ممکنہ اضافے نے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق، جب بھی عالمی سطح پر جنگی کشیدگی بڑھتی ہے، سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ سے اپنا سرمایہ نکال کر محفوظ اثاثوں کی طرف منتقل کرنے لگتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں بھی یہی رجحان غالب ہے، جہاں ٹیکنالوجی کے بڑے ناموں کے حصص تیزی سے فروخت کیے جا رہے ہیں۔ ٹریژری ییلڈز میں اضافے نے قرض لینے کی لاگت میں بھی اضافہ کر دیا ہے، جس کا براہِ راست اثر ٹیکنالوجی کمپنیوں کی منافع بخش صلاحیتوں پر پڑ رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں سرمایہ کاروں کی نظریں مرکزی بینکوں کی پالیسیوں اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر مرکوز رہیں گی۔ اگر کشیدگی میں کمی نہیں آتی تو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ مزید جاری رہ سکتا ہے۔ فی الحال، مارکیٹ کے تجزیہ کاروں نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر مستحکم حالات میں انتہائی محتاط رہیں اور کسی بھی بڑی سرمایہ کاری سے قبل مکمل تحقیق کو یقینی بنائیں۔