Politics
دہلی پولیس کی سپریم کورٹ میں وضاحت: چہرے کی شناخت کا غلط استعمال نہیں ہوا
دہلی پولیس نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں کہا ہے کہ امتحان پیپر لیک ہونے کے خلاف مظاہروں کے دوران چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کا مقصد صرف نامعلوم افراد نہیں بلکہ ماضی کے ریکارڈ یافتہ مجرموں کی نشاندہی کرنا تھا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ اس دوران انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا گیا اور صرف ضرورت کے مطابق کم سے کم طاقت استعمال کی گئی۔
بھارت میں دہلی پولیس نے سپریم کورٹ میں ایک اہم حلف نامہ جمع کرایا ہے جس میں جنتر منتر پر امتحان پیپر لیک ہونے کے خلاف ہونے والے طلبہ مظاہروں کے دوران ٹیکنالوجی کے استعمال کا دفاع کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج کے مقامات پر چہرے کی شناخت کرنے والے سافٹ ویئر کا استعمال صرف ان افراد کی نشاندہی کے لیے کیا گیا جو پہلے سے ہی کسی نہ کسی جرم میں ملوث رہے ہیں یا جن کا پولیس ریکارڈ میں نام موجود ہے۔ یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انسانی حقوق کی تنظیموں اور مظاہرین کی جانب سے نجی زندگی کے تحفظ پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔
حلف نامے میں دہلی پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ طلبہ کے مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے لیے فورس کی جانب سے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا گیا۔ پولیس کے مطابق، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 'زیادہ سے زیادہ تحمل اور کم سے کم طاقت' کے اصول کو اپنایا تاکہ صورتحال کو پرامن طریقے سے سنبھالا جا سکے۔ حکام کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال محض حفاظتی اقدامات کے تحت کیا گیا تاکہ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ مظاہروں کی آڑ میں کوئی مطلوبہ مجرم فرار نہ ہو سکے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں امتحان پیپر لیک ہونے کے معاملے پر دہلی کے جنتر منتر پر بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے، جس میں طلبہ نے بھرپور شرکت کی تھی۔ ان مظاہروں کے دوران پولیس کی جانب سے چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کے استعمال پر شدید تنقید کی گئی تھی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی کا استعمال پرامن مظاہرین کو ڈرانے دھمکانے اور ان کی نگرانی کے لیے کیا جا رہا ہے، جس سے جمہوری حقوق سلب ہوتے ہیں۔ تاہم پولیس نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے صرف سیکیورٹی کا ایک معمول کا حصہ قرار دیا ہے۔
سپریم کورٹ اب اس معاملے کی سماعت کرے گی اور یہ دیکھے گی کہ کیا پولیس کا یہ عمل آئینی حدود کے اندر تھا یا اس میں نجی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ عدالت کی جانب سے دی جانے والی ہدایات اس حوالے سے ایک مثال بنیں گی کہ مستقبل میں عوامی مقامات پر مظاہروں کے دوران ٹیکنالوجی کی نگرانی کی حدود کیا ہونی چاہئیں۔ پولیس نے عدالت کو یقین دلایا ہے کہ وہ قانون کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے اور کسی بھی بے گناہ شہری کو ہراساں کرنا ان کا مقصد نہیں ہے۔