LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں صحت کے شعبے پر مصنوعی ذہانت کے مثبت اثرات، نئی رپورٹ جاری

News Image
فلپس کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق بھارت میں طبی ماہرین کی بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی ان کی کام کرنے کی صلاحیت کو بڑھا رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت ڈاکٹرز اب کم وقت میں زیادہ مریضوں کی دیکھ بھال کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔
فلپس کی جانب سے جاری کردہ حالیہ 'فیوچر ہیلتھ انڈیکس 2026' رپورٹ نے طبی شعبے میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے اثرات پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میں کام کرنے والے 71 فیصد ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کا یہ ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال نے ان کی مریضوں کو دیکھنے اور ان کی دیکھ بھال کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ یہ تحقیق اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اب صرف ایک معاون ذریعہ نہیں رہی بلکہ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو سنبھالنے کے لیے ایک کلیدی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے طبی عملہ وقت کی بچت کرتے ہوئے تشخیص کے عمل کو درست اور تیز تر بنانے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کے ہسپتالوں اور کلینکس میں مصنوعی ذہانت کے انضمام سے نہ صرف انتظامی بوجھ کم ہوا ہے بلکہ ڈاکٹروں کو بھی تشخیص اور علاج کے نئے طریقے اپنانے میں مدد ملی ہے۔ 71 فیصد طبی ماہرین کا یہ اعتراف کہ وہ اب پہلے سے زیادہ مریضوں کو دیکھ سکتے ہیں، صحت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کی افادیت کو ثابت کرتا ہے۔ یہ تبدیلی خاص طور پر ان علاقوں میں انتہائی اہم ہے جہاں ڈاکٹروں اور مریضوں کی تعداد میں توازن ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ٹیکنالوجی کا درست استعمال مستقبل میں صحت کے معیار کو عالمی معیار کے مطابق لانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا شعبہ ابھی اپنے ارتقائی عمل سے گزر رہا ہے۔ طبی ماہرین نے جہاں اے آئی کو ایک اثاثہ قرار دیا ہے، وہیں انہوں نے ڈیٹا کی سکیورٹی، اخلاقیات اور عملے کی تربیت کو بھی مستقبل کی کامیابی کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ فلپس کی جانب سے کیا گیا یہ سروے 2,000 سے زائد طبی ماہرین کی آراء پر مبنی ہے، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ بھارت میں ہیلتھ کیئر کا شعبہ ڈیجیٹل انقلاب کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ آنے والے برسوں میں، مصنوعی ذہانت کا کردار مریضوں کی زندگیوں کو بچانے اور صحت کی سہولیات کو ہر خاص و عام تک پہنچانے میں مزید کلیدی ثابت ہوگا۔