LIVE
Loading Breaking News...

ٹیسلا ایف ایس ڈی سسٹم کی خرابی، ہائی وے پر خوفناک واقعہ

News Image
ٹیسلا کی مکمل سیلف ڈرائیونگ (FSD) فیچر کے استعمال کے دوران ایک صحافی کو شدید خطرے کا سامنا کرنا پڑا۔ گاڑی نے اچانک ہائی وے سے ہٹ کر کھائی کی طرف رخ کر لیا جسے بروقت مداخلت سے روکا گیا۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور خود کار گاڑیوں کے شعبے میں ٹیسلا کا نام نمایاں ہے تاہم اس کی 'فل سیلف ڈرائیونگ' (FSD) ٹیکنالوجی ایک بار پھر شدید تنقید اور سوالات کی زد میں آ گئی ہے۔ حال ہی میں ایک صحافی نے اپنے خوفناک تجربے کو شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ ٹیسلا کی گاڑی میں سوار تھے اور اس کا ایف ایس ڈی سسٹم فعال تھا، تو گاڑی نے اچانک اپنا راستہ تبدیل کر لیا اور ہائی وے سے اتر کر سیدھی ایک گہری کھائی کی طرف بڑھنے لگی۔ یہ واقعہ تکنیکی ماہرین اور عام صارفین کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ صحافی کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب گاڑی ہائی وے پر رواں دواں تھی اور سسٹم خود کار طریقے سے گاڑی کو کنٹرول کر رہا تھا۔ اچانک گاڑی نے سمت تبدیل کی جس سے ایسا محسوس ہوا کہ گاڑی کھائی میں جا گرے گی۔ صحافی نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اسٹیئرنگ پر قابو پایا اور حادثے کو پیش آنے سے روک لیا۔ اس واقعے نے یہ ثابت کیا ہے کہ موجودہ دور کی جدید ترین سیلف ڈرائیونگ ٹیکنالوجی بھی ابھی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے اور انسانی نگرانی کے بغیر اس پر مکمل بھروسہ کرنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹیسلا کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کا ایف ایس ڈی سسٹم ڈرائیونگ کو آسان اور محفوظ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سافٹ ویئر کی یہ غلطیاں انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ ماضی میں بھی ایسی کئی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں جن میں ٹیسلا کے آٹو پائلٹ موڈ کے دوران حادثات پیش آئے۔ ان واقعات کے بعد ٹیکنالوجی انڈسٹری میں خود کار گاڑیوں کے ضابطہ اخلاق اور حفاظتی معیارات پر نظر ثانی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ فی الحال اس معاملے پر ٹیسلا کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن صارفین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ واقعہ ایک یاد دہانی ہے کہ اگرچہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس نے بہت ترقی کر لی ہے لیکن سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کے معاملات میں ابھی بھی انسانی مداخلت اور ہوشیاری ناگزیر ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ خود کار فیچرز استعمال کرتے وقت ڈرائیور کو مکمل طور پر چوکس رہنا چاہیے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت ردعمل دیا جا سکے۔