LIVE
Loading Breaking News...

ایران کی جانب سے خلیجی ریاستوں کو امریکہ کی فوجی مدد نہ کرنے کی وارننگ

News Image
ایران کی مسلح افواج نے خطے کے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکہ کی فوجی کارروائیوں میں کسی قسم کی مدد فراہم کرنے سے گریز کریں۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر ان کی سرزمین یا مفادات کے خلاف جارحیت کی گئی تو بھرپور جوابی کارروائی کی جائے گی۔
مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور علاقائی صورتحال کے پیش نظر ایرانی مسلح افواج نے خطے کے خلیجی ممالک کو ایک سخت پیغام جاری کیا ہے۔ ایران نے ان ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ کی فوجی کارروائیوں میں کسی بھی قسم کی معاونت یا سہولت کاری سے مکمل گریز کریں۔ تہران کا ماننا ہے کہ اگر خلیجی ریاستوں نے امریکی فوج کو اپنی سرزمین یا فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی، تو اسے ایران کے خلاف براہ راست دشمنی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشمکش میں شدت آ رہی ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی غیر ملکی فوجی مداخلت نہ صرف علاقائی امن کو تباہ کرے گی بلکہ اس سے معاشی استحکام کو بھی شدید خطرات لاحق ہوں گے۔ ایران نے خاص طور پر آبنائے ہرمز میں اپنی پوزیشن کو مستحکم رکھنے کا اعادہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے جوہری تنصیبات یا ملکی خودمختاری کے خلاف کوئی بھی کارروائی کی گئی تو ایران اپنی بقا کے لیے بھرپور اور فیصلہ کن جوابی کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ یہ سخت موقف ایران کی جانب سے اپنی دفاعی حکمت عملی کو مزید جارحانہ بنانے کا اشارہ ہے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی مبصرین کا خیال ہے کہ اس صورتحال سے خلیجی ممالک کی خارجہ پالیسی کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ ایک طرف امریکہ کے ساتھ ان کے دیرینہ سیکیورٹی تعلقات ہیں، تو دوسری طرف ایران کے ساتھ جغرافیائی اور ہمسائیگی کے رشتے ہیں۔ تاہم، ایران کا تازہ ترین بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ اب کسی بھی قسم کی سمجھوتہ سازی کے موڈ میں نہیں ہے اور خطے میں امریکی موجودگی کو اپنی سیکیورٹی کے لیے سب سے بڑا چیلنج سمجھتا ہے۔ فی الحال دنیا بھر کی نظریں اس کشیدگی پر مرکوز ہیں کہ آیا سفارت کاری کے ذریعے معاملات کو حل کیا جا سکے گا یا یہ کشیدگی کسی بڑے فوجی تصادم کی شکل اختیار کر جائے گی۔