LIVE
Loading Breaking News...

راولپنڈی میں بارشوں کے بعد ٹریفک صورتحال: تازہ ترین اپڈیٹ

News Image
راولپنڈی اور اسلام آباد میں شدید بارشوں کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں جس سے ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ سٹی ٹریفک پولیس ٹریفک کی روانی کو بحال رکھنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
راولپنڈی اور جڑواں شہروں اسلام آباد میں گزشتہ روز سے جاری موسلا دھار بارشوں نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ شدید بارش کے باعث شہر کے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں جس کے نتیجے میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ خاص طور پر مصروف شاہراہوں اور نالہ لئی کے قریب والے علاقوں میں ٹریفک کی روانی انتہائی سست روی کا شکار ہے، جس سے شہریوں کو اپنے دفاتر اور منزل مقصود تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے مزید بارشوں کی پیش گوئی کے بعد ضلعی انتظامیہ ہائی الرٹ پر ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر سٹی ٹریفک پولیس (سی ٹی پی) نے ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ ٹریفک وارڈنز اور افسران کو اہم چوراہوں اور شاہراہوں پر تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ گاڑیوں کے پھنسنے کے واقعات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ٹریفک کی بلا تعطل فراہمی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور ڈرائیورز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور گاڑی چلاتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لیں۔ دوسری جانب نالہ لئی میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافے نے مقامی انتظامیہ کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے نالہ لئی کے اطراف میں رہنے والے رہائشیوں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے واسا اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں فیلڈ میں موجود ہیں اور نکاسی آب کے آپریشنز کو یقینی بنا رہی ہیں۔ شمالی علاقہ جات میں بھی گلیشیئرز پگھلنے کے خطرات (GLOF) کے پیش نظر 24 اگست تک ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے، جس سے مجموعی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ٹریفک پولیس کے دیے گئے روٹس کا استعمال کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں امدادی ٹیموں سے فوری رابطہ کریں۔ ٹریفک پولیس حکام کا مزید کہنا ہے کہ بارش کے دوران سڑکوں پر پھسلن کے باعث حادثات کا خدشہ ہوتا ہے، لہذا ڈرائیورز اپنی رفتار کو معمول سے کم رکھیں اور گاڑیوں کے درمیان مناسب فاصلہ برقرار رکھیں۔ انتظامیہ کا عزم ہے کہ ٹریفک کے بہاؤ کو ہر ممکن طریقے سے بحال رکھا جائے تاکہ کسی بھی قسم کے بڑے ٹریفک جام سے بچا جا سکے۔