Business
پاکستان اسٹاک ایکسچینج: کے ایس ای 100 انڈیکس میں بڑی گراوٹ
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور آبنائے ہرمز میں کشیدہ صورتحال کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل رہا۔ کاروباری دن کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1109 پوائنٹس کی بڑی گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں گزشتہ روز شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس 1109 پوائنٹس کی نمایاں گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس گراوٹ کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی ہے۔ ان خدشات نے مقامی سرمایہ کاروں میں غیر یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے، جس کے باعث فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔ کاروباری سیشن کے دوران انویسٹرز محتاط رہے اور منافع کی بکنگ کے رجحان نے انڈیکس کو مزید نیچے دھکیل دیا۔ یہ مندی اس وقت سامنے آئی ہے جب ملکی معاشی اشاریوں پر بھی گہرا دباؤ موجود ہے۔ کچھ روز قبل ریفائنری سیکٹر میں بہتری کی امید پر مارکیٹ میں معمولی بہتری دیکھی گئی تھی، تاہم عالمی حالات کے تناظر میں یہ امید برقرار نہ رہ سکی اور سرمایہ کاروں نے مارکیٹ سے نکلنے کو ترجیح دی۔ مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدگی اگر برقرار رہی تو توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پاکستان جیسی درآمدی انحصار والی معیشتوں پر براہ راست پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیمنٹ، بینکنگ اور آئل اینڈ گیس کے شعبوں میں خاصی فروخت دیکھی گئی۔ حکومتی سطح پر معاشی اصلاحات کے باوجود بیرونی عوامل سٹاک مارکیٹ پر مسلسل اثر انداز ہو رہے ہیں۔ آنے والے سیشنز کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک عالمی سطح پر صورتحال واضح نہیں ہوتی، مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی بڑے قدم سے قبل عالمی منڈیوں کے رجحانات اور ملکی معاشی پالیسیوں پر گہری نظر رکھیں۔ مارکیٹ کا مستقبل اب اس بات پر منحصر ہے کہ عالمی سطح پر کس طرح کی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور حکومت کس طرح ان بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی ترتیب دیتی ہے۔