LIVE
Loading Breaking News...

فلم نایاب کے ہدایت کار کی ٹی وی چینل پر تنقید، فلم میں غیر قانونی کٹوتیوں کا انکشاف

News Image
فلم 'نایاب' کے ہدایت کار نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹیلی ویژن پر نشر کرنے کے لیے ان کی فلم میں ان کی مرضی کے بغیر بھاری کٹوتیاں کی گئی ہیں۔ اس اقدام پر فلم سازوں اور تخلیقی آزادی کے حامیوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
پاکستان کے انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں حال ہی میں اس وقت ایک نئی بحث چھڑ گئی جب فلم 'نایاب' کے ہدایت کار نے ٹیلی ویژن چینل پر اپنی فلم نشر ہونے کے بعد شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ہدایت کار کا کہنا ہے کہ فلم کو ٹی وی پر دکھانے سے قبل اس کے اہم حصوں کو ان کی اجازت اور مشاورت کے بغیر بری طرح کاٹ دیا گیا جس سے فلم کا معیار اور اس کا بیانیہ کافی حد تک متاثر ہوا۔ انہوں نے اس عمل کو تخلیقی آزادی پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہدایت کار اپنی فلم کے ہر منظر کے پیچھے برسوں کی محنت لگاتا ہے اور اسے اس طرح کاٹنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ ہدایت کار کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، فلم میں کی گئی کٹوتیاں نہ صرف کہانی کے تسلسل کو بگاڑ رہی ہیں بلکہ اداکاروں کی کارکردگی اور جذبات کو بھی مکمل طور پر ختم کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی وی نیٹ ورکس کی جانب سے اپنے کاروباری مفادات کے لیے فلم کی اصل روح کو مسخ کرنا ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ اس معاملے پر فلم انڈسٹری کے دیگر فنکار اور تکنیکی ماہرین بھی ہدایت کار کی حمایت میں سامنے آئے ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ ٹی وی چینلز کو فلم سازوں کے حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔ دوسری جانب اس واقعے نے پاکستان میں فلموں کی ٹیلی ویژن نشریات کے دوران ہونے والی سنسر شپ اور غیر ضروری کٹوتیوں پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فلم سازوں کو یہ یقین دہانی نہیں کرائی گئی کہ ان کی تخلیقات کو اصل حالت میں دکھایا جائے گا تو اس سے معیاری فلموں کی تیاری پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ابھی تک متعلقہ ٹی وی چینل کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے، تاہم ہدایت کار نے قانونی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں اس طرح کی غیر اخلاقی پریکٹس کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ اس تنازع کے بعد اب فلمی حلقوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو اس حوالے سے سخت ضابطہ اخلاق مرتب کرنا چاہیے تاکہ کسی بھی تخلیق کار کی مرضی کے بغیر اس کے فن پارے میں ردوبدل نہ کیا جا سکے۔ 'نایاب' کے ہدایت کار کا یہ اقدام نہ صرف ان کی اپنی فلم کے دفاع کے لیے ہے بلکہ یہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک آواز ہے جو سمجھتے ہیں کہ آرٹ اور سنیما کی حرمت کو برقرار رکھنا ہر ادارے کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔