World
یوکرین: سابق وزیر دفاع فیڈوروف کے حق میں کیف میں مظاہرے
یوکرین کے دارالحکومت کیف میں شہریوں کی بڑی تعداد نے سابق وزیر دفاع مائیکائل فیڈوروف کے حق میں مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ملک میں جلد از جلد عام انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔
یوکرین کے دارالحکومت کیف میں اتوار کے روز شہریوں کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور سابق وزیر دفاع مائیکائل فیڈوروف کی حمایت میں زبردست مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک میں جاری سیاسی بحران کے حل کے لیے فوری طور پر عام انتخابات کا اعلان کرے۔ مظاہرے میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ مائیکائل فیڈوروف کی برطرفی غیر منصفانہ تھی اور انہیں دوبارہ اقتدار میں لانے یا شفاف انتخابی عمل کے ذریعے نئی حکومت قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
مظاہرین نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر فیڈوروف کی حمایت میں نعرے درج تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سول سوسائٹی کے نمائندوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ملک کو ایسے قیادت کی ضرورت ہے جو عوامی امنگوں کی ترجمانی کر سکے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ جنگ زدہ حالات کے باوجود جمہوری اقدار کو برقرار رکھنا ضروری ہے اور عوام کا ووٹ ہی اصل طاقت ہے۔ ریلی کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور شہر کے اہم مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ احتجاج یوکرینی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ فیڈوروف، جو ماضی میں دفاعی امور میں کلیدی حیثیت رکھتے تھے، کی عوامی حمایت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عوام میں موجودہ حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے کافی تشویش پائی جاتی ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے فی الحال انتخابات کے حوالے سے کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم مظاہرین کا عزم ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔
واضح رہے کہ یوکرین میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے دوران انتخابات کا انعقاد ایک حساس موضوع بنا ہوا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ ایسے حالات میں انتخابات کرانا ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے، تاہم حزب اختلاف اور سول سوسائٹی کی جانب سے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ جمہوری عمل کو معطل نہیں کیا جانا چاہیے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیف میں ہونے والا یہ مظاہرہ حکومت کو اپنے موقف میں نرمی لانے پر مجبور کرتا ہے یا نہیں، کیونکہ صورتحال دن بدن پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔