Health
پروسٹیٹ کینسر کا علاج اور فوکل تھراپی کے غلط استعمال پر نئی تحقیق
ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکہ میں پروسٹیٹ کینسر کے تقریباً نصف مریضوں کو ایسی فوکل تھراپی دی جا رہی ہے جس کی طبی رہنما خطوط میں سفارش نہیں کی گئی ہے۔ ماہرین نے اس عمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مریضوں کے غیر ضروری علاج کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔
امریکہ میں پروسٹیٹ کینسر کے علاج کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک حالیہ طبی تحقیق نے طبی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ تحقیق کے مطابق، پروسٹیٹ کینسر کے شکار تقریباً نصف مردوں کو ایسی 'فوکل تھراپی' (Focal Therapy) فراہم کی جا رہی ہے جو موجودہ طبی رہنما خطوط (Guidelines) کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ یہ علاج کا طریقہ کار، جس کا مقصد پورے غدود کے بجائے صرف متاثرہ حصے کو نشانہ بنانا ہوتا ہے، اب ان مریضوں پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے جن کی بیماری کی نوعیت اس علاج کے لیے موزوں نہیں ہے۔
تحقیق میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ طبی ماہرین کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق فوکل تھراپی کا استعمال صرف مخصوص صورتوں میں ہی کیا جانا چاہیے، جہاں کینسر کی شدت اور پھیلاؤ محدود ہو۔ تاہم، ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ ایک بڑی تعداد میں ایسے مریضوں کو یہ طریقہ علاج دیا جا رہا ہے جو ان طبی معیارات پر پورا نہیں اترتے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے غیر ضروری علاج سے نہ صرف مریض کے صحت یاب ہونے کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں، بلکہ اس سے صحت کے دیگر پیچیدہ مسائل کے جنم لینے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
ماہرینِ صحت نے اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے ڈاکٹروں اور مریضوں دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ پروسٹیٹ کینسر کے علاج کے انتخاب میں احتیاط برتیں۔ تحقیق کے مطابق، اکثر مریض معلومات کے فقدان کے باعث یا تیزی سے علاج کی خواہش میں ایسے طریقہ کار کا انتخاب کر لیتے ہیں جن کی افادیت ان کے کیس کے لیے ثابت شدہ نہیں ہوتی۔ ہسپتالوں اور کلینکس میں مریضوں کی کونسلنگ کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے کینسر کے کیس کی نوعیت کو سمجھتے ہوئے درست طبی فیصلہ کر سکیں۔
اس تحقیق کا مقصد طبی برادری کو خبردار کرنا ہے کہ وہ پروسٹیٹ کینسر کے علاج میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے وقت طے شدہ اصولوں کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔ اگر فوکل تھراپی کو اس کے منظور شدہ دائرہ کار سے باہر استعمال کیا جاتا رہا تو مستقبل میں کینسر کے مریضوں کے لیے پیچیدگیاں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ طبی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ پروسٹیٹ کینسر کے علاج کے پروٹوکولز پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے تاکہ مریضوں کو غیر ضروری طبی مداخلت سے بچایا جا سکے اور علاج کے نتائج کو بہتر بنایا جا سکے۔