LIVE
Loading Breaking News...

ٹینیسی باسکٹ بال اور ایکسل لاجسٹکس کے درمیان نئی شراکت داری

News Image
ٹینیسی ایتھلیٹک ڈیپارٹمنٹ نے مردوں اور خواتین کی باسکٹ بال ٹیموں کے لیے پہلی بار جرسی پیچ اسپانسرشپ معاہدہ کیا ہے۔ یہ پانچ سالہ معاہدہ ناکسویل میں قائم کمپنی ایکسل لاجسٹکس کے ساتھ طے پایا ہے۔
یونیورسٹی آف ٹینیسی کے ایتھلیٹک ڈیپارٹمنٹ نے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے ناکسویل میں قائم معروف لاجسٹک کمپنی 'ایکسل لاجسٹکس' (Axle Logistics) کے ساتھ ایک تاریخی شراکت داری کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ یہ معاہدہ یونیورسٹی کی تاریخ میں مردوں اور خواتین کی باسکٹ بال ٹیموں کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا 'جرسی پیچ' پارٹنرشپ معاہدہ ہے۔ اس پانچ سالہ طویل المدتی معاہدے کے تحت، دونوں ٹیموں کی جرسیوں پر ایکسل لاجسٹکس کا لوگو نمایاں طور پر نظر آئے گا، جو یونیورسٹی اور نجی شعبے کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی تعاون کی ایک نئی مثال ہے۔ اس شراکت داری پر تبصرہ کرتے ہوئے یونیورسٹی کے حکام نے کہا کہ یہ معاہدہ نہ صرف مالی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے بلکہ یہ مقامی سطح پر کام کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ ایکسل لاجسٹکس، جو کہ اپنے شعبے میں تیزی سے ترقی کرنے والی کمپنی ہے، اب ٹینیسی باسکٹ بال کے برانڈ کو عالمی سطح پر فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ باسکٹ بال کے مداح اب کھلاڑیوں کی کٹس پر اس نئے لوگو کو دیکھ سکیں گے، جو آنے والے سیزن سے تمام میچوں میں شامل ہوگا۔ کھیلوں کی دنیا میں جرسی پیچ پارٹنرشپ اب ایک عالمی رجحان بن چکا ہے، اور ٹینیسی کا یہ اقدام یونیورسٹی سطح پر اسمارٹ مارکیٹنگ کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ اس معاہدے کے مالیاتی پہلوؤں کو خفیہ رکھا گیا ہے، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ یونیورسٹی کے ایتھلیٹک بجٹ میں اہم اضافہ کرے گا، جسے کھلاڑیوں کی سہولیات، سفر اور جدید ٹریننگ آلات پر خرچ کیا جائے گا۔ یہ پارٹنرشپ نہ صرف ٹیم کی ساکھ کو بہتر بنائے گی بلکہ مقامی کمیونٹی اور کاروباری اداروں کے درمیان ایک مضبوط پل کا کام بھی کرے گی۔ آئندہ سیزن کے آغاز کے ساتھ ہی شائقین اور اسپورٹس تجزیہ کار اس نئی شراکت داری کے اثرات کا مشاہدہ کریں گے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو امید ہے کہ یہ معاہدہ دیگر مقامی کمپنیوں کے لیے بھی ایک مثال بنے گا اور مستقبل میں مزید تجارتی مواقع پیدا ہوں گے۔ ٹینیسی باسکٹ بال کے شائقین اپنی ٹیم کی نئی کٹس کے ساتھ میدان میں اترنے کے منتظر ہیں، جو کہ اب نہ صرف کھیل بلکہ جدید اسپورٹس بزنس ماڈل کی بھی عکاس ہوگی۔