Business
یو اے ای میں ٹیکسٹائل سرکلر اکانومی کا قیام: ایلن میک آرتھر فاؤنڈیشن کے ساتھ اشتراک
متحدہ عرب امارات نے ٹیکسٹائل کے فضلے کو کم کرنے اور پائیداری کو فروغ دینے کے لیے ایلن میک آرتھر فاؤنڈیشن کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ایک قومی پالیسی فریم ورک تشکیل دینا ہے تاکہ کپڑوں کی ری سائیکلنگ اور سرکلر اکانومی کے اصولوں کو ملک بھر میں لاگو کیا جا سکے۔
متحدہ عرب امارات نے ٹیکسٹائل کے فضلے کو کم کرنے اور ملک میں سرکلر اکانومی (Circular Economy) کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے بین الاقوامی شہرت یافتہ 'ایلن میک آرتھر فاؤنڈیشن' کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ٹیکسٹائل کی صنعت میں ضائع ہونے والے کپڑوں کو ری سائیکل کرنے اور انہیں دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کے لیے ایک مربوط قومی پالیسی فریم ورک تشکیل دینا ہے۔ اس شراکت داری کے تحت، ماہرین ٹیکسٹائل کے شعبے میں پائیداری لانے کے لیے ایسے جدید طریقے وضع کریں گے جو ماحول دوست ہوں اور وسائل کے ضیاع کو روک سکیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یو اے ای کی جانب سے یہ اقدام نہ صرف ملکی سطح پر ماحولیاتی بہتری لائے گا بلکہ یہ عالمی سطح پر فیشن انڈسٹری میں پھیلنے والی آلودگی کے خاتمے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ ایلن میک آرتھر فاؤنڈیشن، جو دنیا بھر میں سرکلر اکانومی کے تصور کو اجاگر کرنے کے لیے جانی جاتی ہے، یو اے ای کے سرکاری اداروں کو پالیسی سازی، ڈیزائن کے اصولوں اور فضلہ مینجمنٹ کے نظام کو بہتر بنانے میں تکنیکی مدد فراہم کرے گی۔ اس منصوبے کے تحت ٹیکسٹائل کی صنعت سے جڑے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جائے گا تاکہ ایک ایسا نظام قائم کیا جا سکے جس میں کپڑوں کی عمر کو طویل کیا جا سکے اور لینڈ فلز میں جانے والے ٹیکسٹائل فضلے کی مقدار کو کم سے کم کیا جا سکے۔
متحدہ عرب امارات کی حکومت کا یہ فیصلہ اس کے طویل مدتی 'نیٹ زیرو' اہداف کے حصول کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری دنیا بھر میں کاربن کے اخراج اور پانی کے ضیاع کے حوالے سے ایک بڑی صنعت سمجھی جاتی ہے، اور اس نئی پالیسی کے ذریعے یو اے ای خطے میں ایک مثال قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس فریم ورک کے نفاذ سے نہ صرف کاروباری مواقع پیدا ہوں گے بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور ری سائیکلنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کو بھی فروغ ملے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس شراکت داری کے نتیجے میں کچھ ٹھوس اقدامات کا اعلان کیا جائے گا جو ملکی معیشت اور ماحولیات کے درمیان توازن قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔