Technology
خود کار نظاموں کے لیے نئی لیڈار چپ ٹیکنالوجی
ایم آئی ٹی کے سائنسدانوں نے ایک ایسی جدید فوٹونک چپ تیار کر لی ہے جو مستقبل میں خود کار گاڑیوں اور ڈرونز کے لیے لیڈار سسٹم کو مزید کارگر بنائے گی۔ یہ ٹیکنالوجی بھاری اور پیچیدہ میکانی آلات کی جگہ لے کر خود کار نظاموں کو زیادہ تیز اور درست بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر، میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے محققین نے ایک نئی فوٹونک چپ متعارف کرائی ہے جو لیڈار (Lidar) ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلابی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لیڈار سسٹم، جو خود کار گاڑیوں، ڈرونز اور دیگر ذہین مشینوں کی آنکھ کا کردار ادا کرتے ہیں، فی الحال کافی بڑے اور وزنی میکانی آلات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ نئی فوٹونک چپ ان تمام پیچیدگیوں کو ختم کر کے لیڈار سسٹم کو ایک چھوٹی سی چپ میں سمونے کا راستہ ہموار کرے گی، جس سے خود کار نظاموں کی کارکردگی میں ڈرامائی بہتری متوقع ہے۔ اس نئی ایجاد کے ذریعے مستقبل کی خود کار گاڑیاں اپنے ارد گرد کے ماحول کو پہلے سے کہیں زیادہ تیزی اور درستگی کے ساتھ دیکھ سکیں گی۔ روایتی لیڈار سسٹمز میں موجود میکانی پرزے اکثر خرابی کا شکار ہو سکتے ہیں اور ان کی تیاری کا عمل بھی طویل اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایم آئی ٹی کی جانب سے تیار کردہ یہ جدید چپ ان تمام مسائل کا حل پیش کرتی ہے کیونکہ اس میں کوئی بھی چلنے والا پرزہ نہیں ہے، جس سے اس کی پائیداری میں اضافہ ہوتا ہے اور اسے بڑے پیمانے پر تیار کرنا بھی انتہائی آسان ہے۔ یہ پیش رفت صرف گاڑیوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ڈرونز اور روبوٹکس کے شعبے میں بھی ایک نئی لہر پیدا کرے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے متعارف ہونے سے خود کار نظاموں کی لاگت میں نمایاں کمی آئے گی، جو اسے عام صارفین کے لیے زیادہ قابل رسائی بنا دے گی۔ اس کے علاوہ، چپ کی چھوٹی جسامت اسے چھوٹے ڈرونز اور پورٹیبل ڈیوائسز میں نصب کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے حامل آلات کو زیادہ خود مختار بنانے کے سفر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ آنے والے برسوں میں ہم دیکھ سکیں گے کہ یہ چھوٹی سی فوٹونک چپ کس طرح ہماری روزمرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والی جدید مشینوں کو زیادہ محفوظ، تیز اور قابل اعتماد بناتی ہے۔ ایم آئی ٹی کی ٹیم اب اس چپ کو تجارتی پیمانے پر استعمال کرنے کے لیے مزید ٹیسٹنگ کے مراحل سے گزر رہی ہے تاکہ اسے دنیا بھر کی آٹوموٹو کمپنیوں تک پہنچایا جا سکے۔