LIVE
Loading Breaking News...

صدر ٹینوبو کی اپیل: 2027 کے الیکشن کو نسلی اور مذہبی سیاست سے پاک رکھیں

News Image
صدر بولا ٹینوبو نے کہا ہے کہ 2027 کے عام انتخابات کو ذاتی مفادات یا نسلی و مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے سیاسی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ ملک کے وسیع تر مفاد کو اپنی جماعتوں اور ذاتی عزائم سے بالاتر رکھیں۔
نائیجیریا کے صدر بولا ٹینوبو نے 2027 میں ہونے والے عام انتخابات کے پیش نظر ملک بھر کے سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو ایک اہم پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات کو کبھی بھی 'کرو یا مرو' کی صورتحال میں نہیں بدلنا چاہیے۔ دارالحکومت ابوجا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے تاکید کی کہ جمہوریت کا حسن پرامن انتقالِ اقتدار اور عوامی رائے کا احترام ہے، نہ کہ افراتفری اور انتشار پھیلانا۔ صدر ٹینوبو نے سیاسی جماعتوں کو تنبیہ کی کہ وہ اپنے انتخابی منشور اور اہداف کو حاصل کرنے کے لیے نسلی، لسانی یا مذہبی کارڈ کا استعمال کرنے سے سختی سے گریز کریں۔ صدر ٹینوبو نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ملک میں کسی بھی قسم کی تقسیم قوم کو کمزور کرتی ہے اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کا حصول کبھی بھی قومی سالمیت سے زیادہ اہم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے سیاسی قائدین پر زور دیا کہ وہ ذاتی یا جماعتی مفادات کو ایک طرف رکھ کر ملکی مفاد کو ترجیح دیں۔ ان کے مطابق، نائیجیریا کو اس وقت اتحاد اور یکجہتی کی اشد ضرورت ہے تاکہ اقتصادی بحران اور دیگر سماجی چیلنجز سے نمٹا جا سکے، اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب سیاسی ماحول میں برداشت اور مفاہمت کو فروغ دیا جائے۔ مزید برآں، صدر نے انتخابی عمل کے دوران شفافیت اور ضابطہ اخلاق کی پاسداری پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا مینڈیٹ حاصل کرنے کے لیے تشدد، اشتعال انگیزی یا نفرت انگیز بیانیے کا سہارا لینا غیر جمہوری عمل ہے۔ صدر ٹینوبو کا ماننا ہے کہ اگر نائیجیریا کو ایک مستحکم اور ترقی یافتہ قوم بننا ہے تو سیاسی جماعتوں کو اپنے اندر جمہوری اقدار کو پروان چڑھانا ہوگا۔ انہوں نے تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز سے مطالبہ کیا کہ وہ انتخابات کو ایک مقابلہ سمجھیں، نہ کہ جنگ، جہاں ہر شخص کا مقصد ملک کی بہتری ہونا چاہیے۔ آخر میں، صدر نے سیکورٹی اداروں کو بھی ہدایات دیں کہ وہ انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے چوکنا رہیں اور کسی بھی ایسے گروہ کے خلاف کارروائی کریں جو انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے یا نسلی منافرت پھیلانے کی کوشش کرے۔ انہوں نے قوم سے بھی اپیل کی کہ وہ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کریں جو اپنے مقاصد کے لیے معاشرے کو مذہبی اور نسلی خطوط پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ صدر کی جانب سے یہ انتباہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک میں سیاسی سرگرمیاں رفتہ رفتہ تیز ہو رہی ہیں اور انتخابی تیاریوں کا آغاز ہو چکا ہے۔