Business
کینیڈا-امریکہ تجارتی مذاکرات: ٹیرف میں کمی اور نئی پیشرفت
امریکہ اور کینیڈا کے مابین تجارتی کشیدگی میں کمی لانے کے لیے مذاکرات جاری ہیں جن میں دھاتوں اور آٹوموبائل سیکٹر پر ٹیرف میں نرمی کا امکان ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا پر نئے ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے کو تین دن کے لیے موخر کر دیا ہے تاکہ معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات میں ایک نئی پیشرفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان دھاتوں اور آٹوموبائل کی صنعتوں پر عائد ٹیرف میں ممکنہ کمی پر غور کیا جا رہا ہے۔ کینیڈا کی حکومت مسلسل ان کوششوں میں مصروف ہے کہ امریکہ کی جانب سے کسی بھی قسم کے نئے ٹیرف کے نفاذ کو روکا جائے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب تجارتی ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے۔ اس تناظر میں کینیڈین حکام کی جانب سے سفارتی سطح پر متحرک کوششیں جاری ہیں تاکہ شمالی امریکہ کے تجارتی تعلقات میں استحکام لایا جا سکے۔
دوسری جانب، امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا پر نئے ٹیرف عائد کرنے کے اپنے اعلان کو فی الحال تین دن کے لیے موخر کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے اس فیصلے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ دونوں ممالک کے مابین ایک تجارتی معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے، اور بات چیت میں خاطر خواہ پیشرفت ہوئی ہے۔ یہ وقفہ فریقین کو اپنے تحفظات دور کرنے اور دیرپا معاہدے کے لیے درکار قانونی و اقتصادی نکتے طے کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ اس پیشرفت کے بعد عالمی منڈیوں میں ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید بڑی تجارتی جنگ ٹل جائے۔
اس معاملے کے دیگر اہم پہلوؤں میں کی سٹون ایکس ایل پائپ لائن (Keystone XL pipeline) کی بحالی کا تذکرہ بھی شامل ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ نے اس پائپ لائن منصوبے کو دوبارہ فعال کرنے کا عندیہ دیا ہے جو کینیڈا اور امریکہ کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کو بڑھانے کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ دوبارہ شروع ہوتا ہے تو اس سے دونوں ممالک کے توانائی کے تجارتی تعلقات میں ایک نیا باب کھلے گا۔ کینیڈین وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں بھی اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ کینیڈا امریکہ کے ساتھ منصفانہ اور متوازن تجارتی تعلقات کا خواہاں ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے تین دن انتہائی اہم ثابت ہوں گے، کیونکہ ٹیرف کا فیصلہ معطل ہونے سے عالمی سپلائی چین پر پڑنے والے ممکنہ منفی اثرات کو روکنے میں مدد ملے گی۔ اگر دونوں فریقین دھاتوں اور گاڑیوں کے معاملے پر اتفاق رائے تک پہنچ جاتے ہیں، تو یہ نہ صرف شمالی امریکہ کی معیشت کے لیے خوش آئند ہوگا بلکہ عالمی تجارتی تنازعات کے حل کے لیے بھی ایک مثال بنے گا۔ فی الحال دونوں حکومتیں ٹیکنیکل ٹیموں کے ذریعے معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ اقتصادی نقصان سے بچا جا سکے۔