LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ اور شی جن پنگ ستمبر سربراہی اجلاس: عالمی معیشت پر اثرات

News Image
ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی متوقع ستمبر سمٹ عالمی سیاست اور معیشت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس ملاقات کے نتیجے سے کہیں زیادہ اس سے قبل ہونے والی پیشگی قیاس آرائیاں عالمی منڈیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
امریکہ اور چین کے سربراہان مملکت ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ستمبر میں متوقع ملاقات عالمی منظرنامے میں ایک انتہائی اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ اگرچہ اس ملاقات کا حتمی ایجنڈا تاحال زیر بحث ہے، مگر سفارتی حلقوں اور معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سربراہی اجلاس کے نتائج سے کہیں زیادہ اہمیت اس کے 'پری گیم' یا پیشگی تجزیوں کو حاصل ہے۔ یہ تجزیے اس بات کا تعین کر رہے ہیں کہ دونوں سپر پاورز کے درمیان کشیدگی کس نہج پر ہے اور کیا مستقبل میں تعاون کی کوئی گنجائش باقی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس ملاقات سے قبل کی گئی پیشگوئیاں عالمی منڈیوں اور خاص طور پر سرمایہ کاری کے شعبے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہیں۔ امریکی اور چینی تجارتی تعلقات طویل عرصے سے تناؤ کا شکار ہیں، اور اگر ستمبر کے اس اجلاس میں موجودہ تجارتی فائر بندی (Trade Truce) میں توسیع نہ کی گئی تو اس کے سنگین معاشی اثرات برآمد ہو سکتے ہیں۔ عالمی اسٹاک مارکیٹس اس ملاقات کے نتائج کو انتہائی حساسیت کے ساتھ دیکھ رہی ہیں کیونکہ کسی بھی قسم کی ناکامی عالمی سپلائی چین اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔ دوسری جانب، سیاسی تجزیہ کار اس ملاقات کو دونوں رہنماؤں کے لیے اپنی داخلی اور خارجی ساکھ بچانے کے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ٹرمپ اور شی جن پنگ دونوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اپنے ملکوں میں مضبوط امیج پیش کریں، جبکہ عالمی سطح پر تجارت، ٹیکنالوجی اور خارجہ پالیسی کے محاذوں پر ایک متوازن راستہ تلاش کریں۔ پیشگی تجزیے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ دونوں ممالک کے مفادات متصادم ہیں، تاہم ایک محدود نوعیت کا سمجھوتہ دونوں کے لیے ناگزیر ہے تاکہ عالمی معیشت کو مزید کسی بڑے دھچکے سے بچایا جا سکے۔ مجموعی طور پر، ستمبر کی یہ سمٹ محض ایک سفارتی رسمی کارروائی نہیں ہوگی بلکہ یہ طے کرے گی کہ آنے والے مہینوں میں امریکہ اور چین کے مابین تجارتی اور سیاسی تعلقات کس سمت میں گامزن ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سمٹ کے بعد جاری ہونے والا مشترکہ اعلامیہ یا دونوں رہنماؤں کا رویہ ہی دراصل ان پیشگی قیاس آرائیوں کا درست جواب دے سکے گا جو آج عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں چھائی ہوئی ہیں۔