World
انتھونی فاؤچی کانگریس سماعت کووڈ نائینٹین پانچویں ترمیم
امریکہ کے سابق اعلیٰ صحت عہدیدار انتھونی فاؤچی نے ریپبلکن اراکین کی طرف سے کووڈ نائینٹین کے حوالے سے سخت سوالات پوچھے جانے پر پانچویں آئینی ترمیم کا استعمال کیا۔ اس اقدام کا مقصد اپنے دفاع میں خاموش رہنے کا حق استعمال کرنا اور خود کو مجرم قرار دینے والے بیانات سے بچنا تھا۔
امریکہ کے سابق سب سے بڑے طبی عہدیدار اور وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے حال ہی میں کانگریس کی ایک انتہائی اہم سماعت کے دوران پانچویں آئینی ترمیم کا استعمال کیا ہے۔ ریپبلکن قانون سازوں کی جانب سے کووڈ نائینٹین کی وبا کے آغاز، اس کے پھیلاؤ، اور اس سے متعلقہ حکومتی پالیسیوں پر کڑے سوالات اٹھائے جا رہے تھے، جن کے جواب میں ڈاکٹر فاؤچی نے اس قانونی حق کا انتخاب کیا۔ اس صورتحال نے واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے اور میڈیا میں اس پر چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔
امریکی آئین کی پانچویں ترمیم کسی بھی شہری کو یہ حق فراہم کرتی ہے کہ وہ ایسے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کر سکتا ہے جس سے اس کے اپنے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی یا جرم ثابت ہونے کا خطرہ ہو۔ ریپبلکن اراکین کا اصرار تھا کہ ڈاکٹر فاؤچی کورونا وائرس کے مبینہ طور پر لیبارٹری سے اخراج اور دیگر متنازع طبی فیصلوں کے ذمہ دار ہیں، جن کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔ دوسری طرف، فاؤچی کے حامیوں اور ان کے قانونی مشیروں کا کہنا ہے کہ وہ سیاسی انتقام کا نشانہ بن رہے ہیں اور ان پر لگائے جانے والے الزامات کا کوئی ٹھوس سائنسی یا دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہے۔
اس پارلیمانی سماعت کے بعد امریکہ میں سیاسی تقسیم مزید گہری ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے رہنماؤں کا ماننا ہے کہ وبائی امراض کے دوران عوام کو جو لاک ڈاؤن اور دیگر سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، اس کے پیچھے غلط فیصلے تھے جن کا احتساب لازمی ہے۔ جبکہ ڈیموکریٹک اراکین نے انتھونی فاؤچی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے پوری زندگی امریکی عوام کی صحت کی بہتری کے لیے وقف کی ہے اور اس قسم کے الزامات محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی اور قانونی گرما گرمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔