Business
ٹوکنائزڈ فنڈز کی مقبولیت میں اضافہ: مارکیٹ ویلیو 2.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی
گزشتہ تین ماہ کے دوران ٹوکنائزڈ فنڈز کی مارکیٹ ویلیو میں 2.7 ارب ڈالر کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس شعبے میں جے پی مورگن اور اونڈو جیسے بڑے مالیاتی اداروں کی شمولیت سے روایتی فنانس اور بلاک چین ٹیکنالوجی کا انضمام تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں ٹوکنائزڈ فنڈز (Tokenized Funds) کا رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ 90 دنوں کے مختصر عرصے میں ان فنڈز کی مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 2.7 ارب ڈالر کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ پیش رفت روایتی مالیاتی نظام اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے ملاپ کا ایک اہم ثبوت ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹوکنائزیشن کی بدولت سرمایہ کاری کے عمل میں شفافیت، رفتار اور لیکویڈیٹی (Liquidity) کے مسائل کا حل نکالنا آسان ہو گیا ہے، جو روایتی بینکاری کے نظام میں ایک انقلابی تبدیلی کی علامت ہے۔
اس شعبے میں جے پی مورگن (JPMorgan) اور اونڈو فنانس (Ondo Finance) جیسے بڑے اداروں کی شرکت نے مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ جے پی مورگن، جو دنیا کے سب سے بڑے بینکوں میں شمار ہوتا ہے، اپنے بلاک چین پر مبنی پروجیکٹس کے ذریعے اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کو فروغ دے رہا ہے۔ اسی طرح، اونڈو فنانس بھی ایسے ڈیجیٹل اثاثے متعارف کروا رہا ہے جو حقیقی اثاثوں (Real World Assets) سے منسلک ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مستحکم ہوا ہے۔ ان بڑے کھلاڑیوں کی موجودگی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ بڑے مالیاتی ادارے اب ڈیجیٹل ایسٹس کو مستقبل کا ناگزیر حصہ ماننے لگے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹوکنائزڈ فنڈز کی کامیابی کا بنیادی راز یہ ہے کہ یہ پیچیدہ مالیاتی مصنوعات کو بلاک چین پر منتقل کر کے اسے ہر سطح کے سرمایہ کاروں کے لیے قابل رسائی بناتے ہیں۔ اس سے نہ صرف لین دین کے اخراجات میں کمی آتی ہے بلکہ روایتی مالیاتی منڈیوں کے مقابلے میں کام کرنے کا دورانیہ بھی محدود ہو جاتا ہے۔ بلاک چین کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے سے ہر ٹرانزیکشن کا ریکارڈ ڈیجیٹل لیجر پر محفوظ ہو جاتا ہے، جس سے دھوکہ دہی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں اور سرمایہ کاروں کو اپنے اثاثوں پر بہتر کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔
مستقبل کے حوالے سے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے برسوں میں ٹوکنائزڈ اثاثوں کی مارکیٹ مزید وسعت اختیار کرے گی۔ جیسے جیسے عالمی ریگولیٹرز اس ٹیکنالوجی کے لیے مزید واضح قوانین وضع کریں گے، ویسے ویسے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد اس طرف راغب ہو گی۔ یہ پیش رفت نہ صرف مالیاتی خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے بلکہ سرمایہ کاروں کو بھی اپنی پورٹ فولیو کو متنوع بنانے کے لیے ایک جدید اور محفوظ طریقہ کار فراہم کر رہی ہے۔