Technology
پاکستان میں گوگل کا پہلا دفتر، آئی ٹی برآمدات میں اضافے کی امید
پاکستان میں گوگل کے پہلے باضابطہ دفتر کا قیام ملک کی آئی ٹی برآمدات کو 30 ارب ڈالر تک لے جانے کے عزم کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ حکومتی حکام نے گوگل وفد پر زور دیا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو پاکستان کے مخصوص حالات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
پاکستان کی ڈیجیٹل تاریخ میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب ٹیکنالوجی کی عالمی کمپنی گوگل نے باضابطہ طور پر ملک میں اپنا پہلا مقامی دفتر قائم کرنے کا اعلان کیا۔ اس اقدام کو ماہرین معیشت اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ افراد نے خوش آئند قرار دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت پاکستان اپنی آئی ٹی برآمدات کو 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کے پرعزم ہدف پر کام کر رہی ہے۔ گوگل کی پاکستان میں موجودگی نہ صرف عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرے گی بلکہ ملکی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے دروازے بھی کھولے گی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف سے گوگل کے وفد کی ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ ٹیکنالوجی کے بڑے اداروں کا پاکستان میں دفتر کھولنا ملک کی ڈیجیٹل ترقی کے سفر کا آغاز ہے۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر کہا کہ گوگل کی آمد پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ کے ساتھ جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں آئی ٹی کے شعبے کی وسیع استعداد موجود ہے جس سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کے لیے عالمی شراکت داری انتہائی ضروری ہے۔ گوگل کا یہ اقدام پاکستان کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم کو مستحکم کرنے اور سٹارٹ اپس کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کروانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ وفاقی وزراء نے گوگل وفد کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اس بات پر واضح زور دیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو کام کرتے وقت پاکستان کے مخصوص سماجی، ثقافتی اور قانونی حالات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو مقامی اقدار اور قومی مفادات کے ساتھ ہم آہنگ رکھنا ایک ذمہ دارانہ اقدام ہوگا۔ گوگل کی جانب سے بھی پاکستان میں اپنے آپریشنز کے آغاز کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے اور کمپنی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری اور یہاں کے ٹیلنٹ کو عالمی معیار کے مطابق تربیت دینے کے لیے معاونت جاری رکھے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گوگل کا یہ قدم دیگر بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے پاکستان کے دروازے کھول دے گا اور ملک جلد ہی خطے میں ایک بڑا آئی ٹی ہب بن کر ابھرے گا۔ اس سے نہ صرف غیر ملکی زرمبادلہ حاصل ہوگا بلکہ مقامی آئی ٹی کمپنیوں کو بھی گوگل کے جدید ٹولز اور مہارتوں تک رسائی حاصل ہو سکے گی، جس سے ملکی معیشت کو طویل مدتی استحکام ملے گا۔