LIVE
Loading Breaking News...

عالمی یومِ انسانیت 2026: امدادی کارکنوں پر حملوں اور بڑھتے ہوئے عالمی بحرانوں پر خصوصی رپورٹ

News Image
19 اگست کو منائے جانے والے عالمی یومِ انسانیت کے موقع پر امدادی کارکنوں کی سلامتی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں مسلح ڈرونز کی جنگی حکمت عملیوں میں شمولیت نے انسانی فلاحی مشنز پر مامور افراد کے لیے خطرات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔
19 اگست 2026 کو دنیا بھر میں عالمی یومِ انسانیت منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد اُن بہادر افراد کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جو جنگ، قدرتی آفات اور سنگین بحرانوں کے دوران انسانیت کی خدمت میں اپنی جانیں خطرے میں ڈالتے ہیں۔ رواں سال یہ دن ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امدادی کارکنوں کو پہلے سے کہیں زیادہ چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق، سال 2025 کے دوران امدادی کارکنوں پر ہونے والے حملوں کی شرح ایک ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے، جس نے بین الاقوامی برادری کو شدید فکرمندی میں مبتلا کر دیا ہے۔ جدید جنگی ٹیکنالوجی، خاص طور پر مسلح ڈرونز کا وسیع پیمانے پر استعمال موجودہ دور کے تنازعات کا ایک تاریک پہلو بن کر ابھرا ہے۔ ڈرونز کی مدد سے کی جانے والی کارروائیوں نے جنگ کے انداز کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں انسانی ہمدردی کے کاموں میں مصروف ٹیموں کی نقل و حرکت اور ان کی حفاظت کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی کی درستگی اور اس کے آزادانہ استعمال سے نہ صرف عام شہریوں بلکہ ان کارکنوں کے لیے بھی زمین تنگ ہو گئی ہے جو کسی بھی فریق کا حصہ نہیں ہوتے اور صرف انسانیت کے لیے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ ہلال احمر (ICRC) اور یورپی کمیشن جیسے اداروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ صحت کی دیکھ بھال اور انسانی امداد کوئی استحقاق نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ عالمی رہنماؤں اور اداروں کا مطالبہ ہے کہ جنگی حالات میں بھی انسانیت کی خدمت کرنے والوں کے خلاف تشدد کو معمول بننے سے روکنا ہوگا۔ اگر ان کارکنوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا گیا تو مستقبل میں کسی بھی بڑے بحران کے دوران فوری امداد پہنچانا ناممکن ہو جائے گا، جس کے تباہ کن اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ اس سال کا عالمی یومِ انسانیت ایک بار پھر دنیا کو یاد دلاتا ہے کہ امدادی کارکنوں پر حملے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ اخلاقی دیوالیہ پن کا بھی ثبوت ہیں۔ دنیا بھر کے ممالک کو اب مل کر ایسے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جن سے میدانِ عمل میں موجود ان فرشتوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔ انسانیت کی بقا کا دارومدار ان کارکنوں کے محفوظ ہونے پر ہے، اور عالمی برادری کو اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔