LIVE
Loading Breaking News...

فیڈرل ریزرو کا اجلاس: شرح سود میں اضافے کا امکان

News Image
امریکی مرکزی بینک کے حالیہ اجلاس کے منٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام افراطِ زر کو کنٹرول کرنے کے لیے شرح سود میں مزید اضافے کے حق میں ہیں۔ فیڈ پالیسی سازوں کا ماننا ہے کہ اگر مہنگائی کی شرح میں کمی نہ آئی تو سخت مانیٹری پالیسی جاری رکھنا ضروری ہوگا۔
امریکی مرکزی بینک، فیڈرل ریزرو نے جولائی کے مہینے میں منعقدہ اپنے پالیسی اجلاس کے منٹس جاری کر دیے ہیں، جن سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ بینک کے پالیسی ساز افراطِ زر کی بلند شرح کو لے کر شدید فکرمند ہیں۔ منٹس کے مطابق، فیڈ کے کئی عہدیداران کا یہ ماننا ہے کہ اگر مہنگائی میں خاطر خواہ کمی نہیں آتی تو معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے شرح سود میں مزید اضافہ کرنا ناگزیر ہو سکتا ہے۔ یہ خبر عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے ایک اہم اشارہ ہے، کیونکہ سرمایہ کاروں کی نظریں اب فیڈ کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی (FOMC) کے اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ افراطِ زر کا ہدف تاحال حاصل نہیں ہوا ہے اور معاشی ڈیٹا اس بات کا متقاضی ہے کہ انتہائی احتیاط کے ساتھ مانیٹری پالیسی کو آگے بڑھایا جائے۔ اگرچہ معیشت کے کچھ شعبوں میں بہتری کے آثار دیکھے گئے ہیں، لیکن مہنگائی کے دباؤ نے پالیسی سازوں کو خبردار رکھا ہوا ہے۔ اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ شرح سود کو طویل عرصے تک بلند سطح پر رکھنا پڑ سکتا ہے تاکہ افراطِ زر کو دو فیصد کے ہدف تک لایا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایف او ایم سی (FOMC) کے منٹس نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ فیڈرل ریزرو افراطِ زر کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ منٹس میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ مستقبل کے فیصلوں کا انحصار براہ راست آنے والے معاشی اعدادوشمار پر ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ چیئرمین وارش کی جانب سے اجلاسوں کے شیڈول اور مانیٹری پالیسی کے دیگر پہلوؤں پر بھی گفتگو ہوئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی بینک اپنی حکمت عملی میں لچک اور تسلسل کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ صورتحال بتاتی ہے کہ عالمی مارکیٹوں کو آنے والے مہینوں میں اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سرمایہ کار اب محتاط انداز اختیار کر رہے ہیں اور ہر ممکنہ معاشی اشارے کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگر افراطِ زر کا گراف نیچے کی طرف نہیں آتا تو مرکزی بینک کے پاس سخت اقدامات کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچے گا۔