LIVE
Loading Breaking News...

کینیا میں ہیلی کاپٹر حادثہ: ایکواڈور کے انٹیلی جنس چیف سمیت 7 افراد ہلاک

News Image
کینیا میں پیش آنے والے ایک افسوسناک ہیلی کاپٹر حادثے کے نتیجے میں 7 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ مرنے والوں میں ایکواڈور کے انٹیلی جنس چیف اور امریکی میڈیا سے منسلک صحافی بھی شامل ہیں۔
مشرقی افریقہ کے ملک کینیا میں ایک انتہائی افسوسناک فضائی حادثہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار تمام 7 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مرنے والوں میں زیادہ تر غیر ملکی سیاح شامل تھے جو تفریحی دورے پر تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ہیلی کاپٹر نے ایک مقامی علاقے سے اڑان بھری تھی، تاہم تکنیکی خرابی یا موسمی حالات کے پیش نظر یہ مشین زمین بوس ہو گئی۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں لیکن ہیلی کاپٹر میں لگی شدید آگ اور تباہی کے باعث کسی کی زندگی بچانا ممکن نہ ہو سکا۔ انتظامیہ کی جانب سے علاقے کو گھیرے میں لے کر واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں اہم عالمی شخصیات بھی شامل ہیں، جس نے اس واقعے کو بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مرنے والوں میں ایکواڈور کے انٹیلی جنس چیف مشیل سینسی کونٹوگی (Michele Sensi-Contugi) اور این بی سی یونیورسل کے معروف صحافی ہوزے سواریز (Jose Suarez) شامل ہیں۔ ان شخصیات کی ہلاکت نے عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں گہرے دکھ کی لہر دوڑا دی ہے۔ کینیا کی حکومت نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور حادثے کی شفاف تحقیقات کا یقین دلایا ہے۔ ایوی ایشن ماہرین اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ آیا یہ واقعہ انسانی غلطی کا نتیجہ تھا یا ہیلی کاپٹر میں کوئی فنی خرابی پیدا ہوئی تھی۔ ہیلی کاپٹر کا ملبہ دور دراز علاقے میں بکھرا پڑا تھا، جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مقامی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ تمام لاشوں کو نکال کر شناخت کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، تاکہ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں ان کے آبائی ممالک بھیجا جا سکے۔ کینیا میں سیاحتی مقامات پر ہیلی کاپٹروں کا استعمال عام ہے، تاہم اس قسم کے واقعات سیاحوں کی حفاظت پر کئی سوالات اٹھاتے ہیں۔ اس حادثے کے بعد سے فضائی کمپنیوں کے معیار اور حفاظتی اقدامات پر کڑی نگرانی کیے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ مکمل ہونے کے بعد ہی حادثے کی اصل وجوہات کا تعین ممکن ہو سکے گا۔