World
جنوبی لبنان کا تقسیم شدہ گاؤں منصوری اور اسرائیلی یلو لائن کی حقیقت
جنوبی لبنان کا گاؤں منصوری اسرائیل کی قائم کردہ فوجی لکیر کی وجہ سے تقسیم ہو چکا ہے، جہاں کے مکین شدید خوف کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ لکیر اس علاقے کو الگ کرتی ہے جس پر فی الحال اسرائیلی فوج کا قبضہ ہے۔
جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں میں صورتحال بدستور کشیدہ اور تشویشناک بنی ہوئی ہے، جہاں عام شہریوں کی روزمرہ زندگی شدید خوف اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان کا گاؤں منصوری ایک ایسے فوجی اور سیاسی تقسیم کا شکار ہو چکا ہے جسے مقامی سطح پر 'یلو لائن' یا پیلی لکیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ دفاعی اور عسکری لکیر اس خطے کو جدا کرتی ہے جو اس وقت اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہے اور اس حصے سے جہاں مقامی آبادی اپنے آبائی علاقوں میں کسی حد تک موجود ہے۔ اس جغرافیائی اور عسکری تقسیم نے گیس اور زراعت پر انحصار کرنے والے اس پسماندہ خطے کے باسیوں کے لیے مشکلات کا ایک نیا اور خطرناک باب کھول دیا ہے۔
منصوری گاؤں کے رہائشی بتاتے ہیں کہ ان کے روزمرہ کے معمولات اب معمول کے مطابق نہیں رہے۔ خاندان ایک دوسرے سے کٹ کر رہ گئے ہیں اور بہت سے افراد جو سرحد کے اس پار یا دوسری طرف اپنے روزگار کے سلسلے میں جاتے تھے، اب اس کے لیے بھی محتاط رہنے پر مجبور ہیں۔ ہر لمحہ یہ خطرہ منڈلاتا رہتا ہے کہ کسی بھی وقت سرحدی جھڑپیں شدت اختیار کر سکتی ہیں جس سے ان کی جان و مال کو براہ راست خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس تنازع نے نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو مفلوج کر دیا ہے بلکہ نفسیاتی طور پر بھی یہاں کے باسیوں بالخصوص بچوں اور خواتین کو شدید صدمے سے دوچار کیا ہے۔ تعلیمی ادارے غیر یقینی کا شکار ہیں اور صحت کی بنیادی سہولیات تک رسائی بھی انتہائی محدود ہو چکی ہے۔
بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں جنوبی لبنان کے ان سرحدی دیہات میں بڑھتی ہوئی کشیدہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ مقامی لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اس طویل تنازع اور غیر اعلان کردہ سرحدی حدود کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ وہ امن و سکون کا سانس لے سکیں۔ تاہم، زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں جہاں عسکری سرگرمیاں اور فائرنگ کے تبادلے اس خطے کو مزید تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ منصوری گاؤں کی یہ کہانی دراصل پورے جنوبی لبنان کے ان ہزاروں متاثرہ افراد کی عکاسی کرتی ہے جو جنگ اور خوف کے اس ماحول میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔