Business
وال مارٹ اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، مارکیٹ کیپٹلائزیشن ایک ٹریلین ڈالر کے قریب
وال مارٹ کے حصص کی قیمتوں میں 1.5 فیصد اضافے کے بعد کمپنی کی مارکیٹ ویلیو ایک ٹریلین ڈالر کے سنگ میل کے قریب پہنچ گئی ہے۔ سرمایہ کار جمعرات کو ہونے والی کمپنی کی 187 ارب ڈالر کی آمدنی کی رپورٹ کے منتظر ہیں۔
دنیا بھر میں روزمرہ کی خریداری کا مرکز سمجھے جانے والے ریٹیل دیو 'وال مارٹ' (Walmart) کے حصص کی قیمتوں میں منگل کے روز نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، کمپنی کے حصص تقریباً 1.5 فیصد اضافے کے ساتھ 115.99 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عالمی سطح پر سرمایہ کار بانڈز کی بڑھتی ہوئی پیداوار کے درمیان مستحکم اور دفاعی نوعیت کے کاروباروں کی طرف اپنی توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ وال مارٹ کی یہ کارکردگی نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد ظاہر کرتی ہے بلکہ کمپنی کو ایک ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے تاریخی سنگ میل کے بالکل قریب لے آئی ہے۔
اس تیزی کے پیچھے سب سے بڑی وجہ وال مارٹ کے حوالے سے سرمایہ کاروں کی مثبت توقعات ہیں، خاص طور پر جمعرات کو جاری ہونے والی سہ ماہی آمدنی کی رپورٹ کے تناظر میں۔ وال مارٹ کی جانب سے 187 ارب ڈالر کی متوقع آمدنی کو کمپنی کی مالی صحت کے لیے ایک بڑے امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر کمپنی اپنے ریونیو کے اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب رہتی ہے، تو یہ نہ صرف وال مارٹ کے لیے بلکہ مجموعی طور پر ریٹیل سیکٹر کے لیے ایک بہت بڑا مثبت اشارہ ہوگا۔ مارکیٹ ماہرین اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کیا وال مارٹ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور صارفین کے بدلتے ہوئے رجحانات کے باوجود اپنے منافع کے مارجن کو برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔
وال مارٹ کا شمار دنیا کی ان چند کمپنیوں میں ہوتا ہے جو اپنی وسیع سپلائی چین اور کم قیمت اشیاء کی فراہمی کی وجہ سے ہر قسم کے معاشی حالات میں بھی مستحکم رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی بازار میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے، سرمایہ کار وال مارٹ جیسے مستحکم اسٹاکس کا رخ کرتے ہیں۔ اگر جمعرات کو کمپنی کی آمدنی توقعات کے مطابق یا اس سے بہتر رہی، تو توقع ہے کہ حصص کی قیمتوں میں مزید بہتری آئے گی اور وال مارٹ مارکیٹ میں ایک نئی تاریخ رقم کر سکتی ہے۔ اس وقت وال مارٹ کے حصص کی کارکردگی وال اسٹریٹ پر چھائے ہوئے خدشات کو دور کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
آئندہ چند روز کے دوران وال مارٹ کی جانب سے جاری ہونے والے مالیاتی نتائج عالمی معاشی منظرنامے پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔ اگر کمپنی اپنی متوقع آمدنی کے اہداف کو عبور کر لیتی ہے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ وال مارٹ عالمی ریٹیل مارکیٹ پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ فی الحال، سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری کا سلسلہ جاری ہے، جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ وال مارٹ کی انتظامیہ کی حکمت عملی اور کمپنی کی مجموعی کارکردگی پر مارکیٹ کا اعتماد مکمل طور پر بحال ہو چکا ہے۔